چشمہٴ معرفت — Page 374
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۷۴ چشمه معرفت یہ سوال ایسا ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب مختلفہ کے پابندوں کو یہ جوش دلاتا ہے کہ وہ اپنے اپنے خیالات اور معتقدات کے موافق اس کا جواب دیں اس لئے میں نے بھی مناسب سمجھا کہ اس بارے میں کچھ لکھوں ۔ اب واضح ہو کہ قبل اس کے جو میں اصل مطلب کی طرف توجہ کروں اس بحث کو مفید عام اور با ترتیب بنانے کے لئے یہ بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ لوگ جو اپنے اپنے رنگ میں اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں وہ کئی قسم کی رائیں رکھتے ہیں ۔ (۱) ایک تو وہ ہیں جو قطعاً صانع عالم کے وجود سے ہی منکر ہیں پس جب کہ ان کے نزدیک خدا تعالیٰ کا وجود ہی ثابت نہیں تو پھر الہامی کتاب جس کا وجود صانع عالم کے وجود سے وابستہ ہے اُن کے نزدیک کوئی بھی نہیں ۔ (۲) دوسرے وہ لوگ ہیں کہ جو پورے طور پر صانع عالم کے منکر تو نہیں مگر کسی حد تک منکر ضرور ہیں جیسے وہ صاحبان کہ اس بات کو نہیں مانتے کہ ذرات عالم اور اُن کی اتصالی اور یر میشر کی طرف انفصالی قوتیں پرمیشر نے بنائی ہیں یا ہیں یا روح اور اُن کی نہایت لطیف طاق طاقتیں پرمیشر کی سے ہیں بلکہ اُن کے نزدیک وہ سب خود بخود اور انا دی ہیں لہذا اُن کے نزدیک بھی الہام نا ممکن ٹھیرتا ہے کیونکہ بموجب اُن کے اصول کے روح میں اور پرمیشر میں کوئی رشتہ نہیں اور الہام کی فلاسفی یہی ہے کہ بوجہ ربط خالقیت اور مخلوقیت خدا اپنے بندہ کے اندر سے بولتا ہے پس اگر یہ فرض کیا جائے کہ خدا اور بندہ کی روح میں یہ ربط نہیں تو ماننا پڑے گا کہ وہ بندہ سے دور اور الگ ہے۔ اس صورت میں جیسا کہ ہم کسی کے دل کے اندر ہو کر اُس سے بول نہیں سکتے ایسا ہی پر میشر کا حال ہوگا ۔ (۳) اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ وہ الہام کو تو مانتے ہیں مگر اُن کے نزدیک خدا کا کلام کسی پر نازل نہیں ہوتا بلکہ انسان کے دل میں جو باتیں آتی ہیں وہ سب الہام ہیں۔ (۴) اور بعض لوگ ایسے گزرے ہیں اور اب بھی ہیں کہ وہ الہام کی ضرورت نہیں سمجھتے