چشمہٴ معرفت — Page 349
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۴۹ چشمه معرفت - خاتمہ کتاب رب نظر آئیں گے۔ یہی بھید ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہی کہتے تھے کہ سبحان ربی الاعلى۔ سبحان ربی العظیم یعنی میرا رب سب سے بڑا اور بزرگ ہے پس اگر چہ رب تو ایک ہے مگر تجلیات عظیمہ اور ربوبیت عالیہ کی وجہ سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رب سب سے اعلیٰ ہے ۔ پھر اس جگہ ایک اور نکتہ ہے کہ چونکہ مدارج قرب اور تعلق حضرت احدیت کے مختلف ہیں اس لئے ایک شخص با وجود خدا کا مقرب ہونے کے جب ایسے شخص سے مقابلہ کرتا ہے جو باو ، شخص قرب اور محبت کے مقام میں اس ۔ لے مقام میں اس سے بہت بڑھ کر ہے تو آخر نتیجہ اُس کا یہ ہوتا ہے کہ یہ شخص جو ا ادنی درجہ کا قرب الہی رکھتا ہے نہ صرف ہلاک ہوتا ہے بلکہ بے ایمان ہو کر مرتا ہے جیسا کہ موسیٰ کے مقابل پر بلعم باعور کا حال ہوا۔ پہلے تو وہ مکالمہ مخاطبہ الہیہ سے مشرف تھا اور اُس کی دعائیں قبول ہوتی تھیں اور تمام ملک میں ولی کہلاتا تھا اور صاحب کرامات تھا لیکن جب خواه نخواہ موسیٰ ۳۳۴ کے ساتھ مقابلہ کر بیٹھا اور اپنی قدر کو شناخت نہ کیا تب ولایت اور قرب کے مقام سے گرایا گیا اور خدا نے کتنے کے ساتھ اُس کو مثال دی ۔ پس سوچنا چاہیے کہ دی ۔ پس سوچنا چاہیے کہ تکبر اور مشیخت کے ہے کہ تکبر اور مشیخت کس قدر خوف کا مقام ہے اور اُس درگاہ میں بجز عاجزی کے اور کچھ منظور نہیں ۔ چاہیے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو دیکھے کہ وہ خدا سے تعلق محبت رکھتا ہے اور خدا اس کی مدد اور نصرت کرتا ہے تو گو یہ کیسا ہی اپنے تئیں پارسا یا مہم سمجھتا ہے جلدی سے اُس کی تو ہین اور تکذیب کے لئے طیار نہ ہو تا بلعم باعور کی طرح اُس کا انجام بد نہ ہو۔