چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 344 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 344

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۴۴ قسم کا قانون قدرت ہے جو ہمارے زمانہ میں آ کر معطل ہو گیا۔ چشمه معرفت پھر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ خدا صرف آریہ ورت کا ہی خدا نہیں بلکہ تمام دنیا کا خدا ہے پھر یہ کسی قسم کا قانون قدرت ہے کہ وہ بے شمار مدتوں سے آریہ ورت سے ہی تعلق رکھتا ہے کہ انہیں کے ملک میں اپنی کتاب نازل کرتا ہے کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ آریہ ورت کو خدا سے کون سی خصوصیت ہے کہ ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کو انہیں کا ملک پسند آ گیا ۔ اور پھر کیا وجہ ہے کہ اس کام کے لئے ہمیشہ آریہ ورت کے چار رشی ہی منتخب کئے جاتے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ پر میشر اپنے عاجز بندوں کو اُن کی زبان میں ہی اپنے احکام نہیں سمجھا تا اور ایک اجنبی زبان جس کو بندے نہ سمجھ سکیں نہ بول سکیں اُن کے سامنے پیش کرتا ہے کہ اُس کی ہدایتوں پر چلو؟ اگر یہی بات ہے کہ پر میشر ان کی زبان سے نفرت کرتا ہے تو پھر وہ دعا ئیں جو اپنی اپنی زبان میں لوگ کرتے ہیں وہ کیوں کر سن لیتا ہے؟ غرض آر یہ مذہب خدا کے قانون قدرت کے بالکل مخالف ہے اور ہم بار بار بیان کر چکے ہیں کہ وید کی رو سے پرمیشر کا وجود ہی ثابت نہیں ہوتا کیونکہ نہ پر میشر وید کی رو سے ۳۲۹ کامل طور پر خالق ہے اور نہ کوئی تازہ نشان دکھا سکتا ہے تا اُس کی ہستی کا اُس سے پتہ لگے اور نہ اُس کی طرف توجہ کرنے والا یہ امر محسوس کرتا ہے کہ پرمیشر نے اپنی کلام سے اُس کو اپنے وجود کی خبر دی ہے کہ میں موجود ہوں ۔ عجیب بات یہ ہے کہ وید کی رو سے مجرموں کو سزا دینے کے لئے اور نیز ایسی نیک جزا دینے کے لئے جس سے ایک بیل اپنی مشقت بھگت کر انسان بن سکتا ہے یہی دنیا جزا وسزا کا گھر ہے مگر پھر بھی ہر ایک روح مرنے کے بعد دنیا سے اٹھائی جاتی ہے اور کسی سزا جزا کا ثمرہ اسی دنیا میں دست بدست دکھا یا نہیں جاتا اور چاہیے تھا کہ جس وقت ایک بیل اپنی بداعمالی کی سزا بھگت لے تو فی الفور اُس بیل کو انسان بنایا جائے تا لوگوں کو بھی معلوم ہو کہ تناسخ برحق ہے جب کہ یہی دنیا سزا جزا د ینے کا گھر ہے تو ناحق روح کو دنیا سے اٹھا لینا اور پھر واپس لا نا کس قد رفضول حرکت ہے۔ ☆