چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 340

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۴۰ چشمه معرفت میں اکیلا اپنے خدا کی جناب میں کسی امر کے لئے رجوع کروں تو خدا میری ہی تائید کرے گا مگر نہ اس لئے کہ سب سے میں ہی بہتر ہوں بلکہ اس لئے کہ میں اُس کے رسول پر دلی صدق سے ایمان لایا ہوں اور جانتا ہوں کہ تمام نبوتیں اُس پر ختم ہیں اور اُس کی شریعت خاتم الشرائع ہے مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں یعنی وہ نبوت جو اُس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اُس کے چراغ میں سے نور لیتی ہے وہ ختم نہیں کیونکہ وہ محمدی نبوت ہے یعنی اُس کا ظل ہے اور اُسی کے ذریعہ سے ہے اور اُسی کا مظہر ہے اور اُسی سے فیض یاب ہے ۔ خدا اُس شخص کا دشمن ہے جو ۳۲۵ قرآن شریف کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہے اور محمدی شریعت کے برخلاف چلتا ہے اور اپنی شریعت چلانا چاہتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتا بلکہ آپ کچھ بننا چاہتا ہے مگر خدا اُس شخص سے پیار کرتا ہے جو اس کی کتاب قرآن شریف کو اپنا دستور العمل قرار دیتا ہے اور اُس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو در حقیقت خاتم الانبیاء سمجھتا ہے اور اس کے فیض کا اپنے تیں محتاج جانتا ہے پس ایسا شخص خدا تعالیٰ کی جناب میں پیارا ہو جاتا ہے اور خدا کا پیار یہ ہے کہ اُس کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اُس کو اپنے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف کرتا ہے اور اُس کی حمایت میں اپنے نشان ظاہر کرتا ہے اور جب اُس کی پیروی کمال کو پہنچتی ہے تو ایک ظلی نبوت اُس کو عطا کرتا ہے جو نبوت محمد یہ کاطل ہے یہ اس لئے کہ تا اسلام ایسے لوگوں کے وجود سے تازہ رہے ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر تو یہ امر ہے کہ ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوت نہیں اور نہ کوئی شریعت ہے اور اگر کوئی ایسا دعوئی کرے تو بلا شبہ وہ بے دین اور مردود ہے لیکن خدا تعالیٰ نے ابتدا سے ارادہ کیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات متعدیہ کے اظہار واثبات کے لئے کسی شخص کو آنجناب کی پیروی اور متابعت کی وجہ سے وہ مرتبہ کثرت مکالمات اور مخاطبات الہیہ بخشے کہ جو اُس کے وجود میں عکسی طور پر نبوت کا رنگ پیدا کر دے سو اس طور سے خدا نے میرا نام نبی رکھا یعنی نبوت محمد یہ میرے آئینہ نفس میں منعکس ہوگئی اور ظلی طور پر نہ اصلی طور پر مجھے یہ نام دیا گیا تا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض کا کامل نمونہ ٹھہروں۔ منہ