چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 334 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 334

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۳۴ چشمه معرفت کر دے اور لوگ اسی جنگ و جدال میں مشغول ہوں گے کہ اس فیصلہ کے کرنے کے لئے خدا آسمان سے قرنا میں اپنی آواز پھونکے گا وہ قرنا کیا ہے؟ وہ اُس کا نبی ہوگا جو اُس کی آواز کو پاکر اسلام اور توحید کی طرف لوگوں کو دعوت کرے گا پس اس آواز کے ساتھ خدا تمام سعیدوں کو ایک جگہ جمع کر دے گا تب کوئی اسلام سے محروم نہیں رہے گا مگر وہی جس کو شقاوت از لی نے روک رکھا ہوگا ۔ پس یقیناً سمجھو کہ یہ وہی دن ہیں جو خدا کے دن کہلاتے ہیں ۔ اگر مجھ سے ٹھٹھا کیا گیا تو یہ نئی بات نہیں ۔ دنیا میں کوئی رسول نہیں آیا جس سے ٹھٹھا نہیں کیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ﴿۱۹﴾ ہے يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِعُونَ لَا یعنی بندوں پر افسوس ! کہ کوئی رسول ان کے پاس ایسا نہیں آیا جس سے انہوں نے ٹھٹھا نہیں کیا۔ میرے مقابل پر جو میرے مخالف مسلمان مجھے گالیاں دیتے ہیں اور مجھے کافر کہتے ہیں یہ بھی میرے لئے ایک نشان ہے کیونکہ انہیں کی کتابوں میں یہ اب تک موجود ہے کہ مہدی معہود جب ظاہر ہو گا تو اُس کو لوگ کافر کہیں گے اور اُس کو ترک کر دیں گے اور قریب ہوگا کہ علمائے اسلام اُس کو قتل کر دیں چنانچہ ایک جگہ مجدد الف ثانی صاحب بھی یہی لکھتے ہیں اور شیخ محی الدین ابن العربی صاحب نے بھی ایک مقام میں یہی لکھا ہے ۔سواس میں کچھ شک نہیں کہ باوجود ہزار ہا نشانوں کے جو خدا نے میرے لئے دکھلائے پھر بھی میں سخت تکذیب کا نشانہ بنایا گیا ہوں اور میری کتابوں کے یہودیوں کی طرح معنے محرف مبدل کر کے اور بہت کچھ اپنی طرف سے ملا کر میرے پر صد ہا اعتراض کئے گئے ہیں کہ گویا میں ایک مستقل نبوت کا دعوی کرتا ہوں اور قرآن کو چھوڑتا ہوں اور گو یا میں خدا کے نبیوں کو گالیاں نکالتا ہوں اور توہین کرتا ہوں اور گویا میں معجزات کا منکر ہوں ۔ سو میری یہ تمام شکایت خدا ا تعالی تعالیٰ - کے جناب میں ہے اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ وہ اپنے فضل سے میں میرے حق میں فیصلہ کرے گا کیونکہ میں مظلوم ہوں ۔ يس : ۳۱