چشمہٴ معرفت — Page 324
۳۱۰ روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۲۴ چشمه معرفت بیان کرنے سے رہ نہیں سکتے جن کے تجربہ اور آزمائش کرنے والے ہم خود ہیں بلکہ ہم یہ بات بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ اب تمام دنیا میں صرف ایک اسلام ہی ہے جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے کہ وہ تازہ نشانوں اور معجزات سے اس پوشیدہ خدا کا چہرہ دکھاتا ہے جس سے دوسری قو میں بے خبر رہ کر مخلوق پرستی میں گرفتار ہوگئی ہیں اور یا یہ کہ اُس کے وجود سے ہی منکر ہو بیٹھے ہیں ۔ پس بلا شبہ اس زمانہ میں خدائے غیب الغیب کا چہرہ دکھلانے والا صرف یہی دین ہے نہ اور کوئی دین فاعتبروا یا اولی الابصار!! چونکہ تربیت اور پرورش کے لئے یہ قاعدہ مقرر ہے کہ جس باغ کو مثلاً مالک اُس کا ہمیشہ تازہ بتازہ رکھنا چاہتا ہے وہ اُس کی مناسب پرورش اور غور و پرداخت کے تعہد کو نہیں چھوڑتا اور ہمیشہ حاجت کے وقت اُس کی آبپاشی کرتا رہتا ہے اور اگر کوئی پھلدار بوٹا ضائع ہو جائے تو اس کی جگہ اور بوٹا لگا دیتا ہے پس یہی قاعدہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں ہے کہ وہ اسلام کے باغ کو جس کو ہمیشہ سرسبز اور پھلدار رکھنا اُس کا مقصود ہے اپنے خاص تعہد سے تازہ بتازہ اور سرسبز کرتا رہتا ہے اور جب وہ باغ آبپاشی کا محتاج ہو جاتا ہے تو اُس کو پانی دیتا ہے اور جب پہلے بوٹے نکتے اور بوسیدہ ہو جاتے ہیں تو نئے بوٹے لگاتا ہے یعنی ایک نئی قوم پیدا کرتا ہے جو پھل دیوے اور پانی دینے کا سرچشمہ ایک ایسے شخص کو بنا دیتا ہے جو خدا کی تجلیات کی بارش سے وحی الہی کا زندہ اور تازہ پانی پاتا ہے۔ اور تم ہر روز خود دیکھتے اور مشاہدہ کرتے ہو کہ کیا کوئی باغ بغیر تعہد اور آبپاشی کے رہ سکتا ہے اور کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جب کچھ بوٹے خشک ہو جاتے ہیں تو اُن کی جگہ اور لگائے جاتے ہیں اور اگر باغبان مر جاتا ہے تو اس کی جگہ دوسرا آتا ہے۔ سو اسلام کے باغ کے لئے بھی یہی قاعدہ ہے۔ اور چونکہ ہمارا زمانہ وہ زمانہ ہے جس میں اسلام کے باغ کو بڑے بڑے صدمات پہنچے ہیں اور کیا اندرونی طور پر اور کیا بیرونی طور پر اسلام انواع و اقسام کے حوادث سے آفت رسیدہ