چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 290 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 290

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۹۰ چشمه معرفت اُن کو مرادیں عطا کرتے ہیں جس کو اس بارے میں شک ہو وہ رگوید کی شہرتیاں غور سے پڑھے افسوس ! جن لوگوں کا وید بجائے خدا تعالیٰ کے سورج چاند کو خدا قرار دیتا ہے اُن کو ایسی باتوں سے ۲۷۷ کچھ دیا کرنی چاہیے تھی کہ وہ ایسی کتاب پر حملہ کریں جو سورج اور چاند کو خدا نہیں بناتی بلکہ خدا کی پیدائش قرار دیتی ہے۔ قرآن شریف میں ایک شاہزادی بلقیس نام کا ایک عجیب قصہ لکھا ہے جو سورج کی پوجا کرتی تھی شاید وید کی پیرو تھی ۔ حضرت سلیمان نے اُس کو بلایا اور اُس کے آنے سے پہلے ایسا محل طیار کیا جس کا فرش شیشہ کا تھا اور شیشہ کے نیچے پانی بہ رہا تھا جب بلقیس نے حضرت سلیمان کے پاس جانے کا قصد کیا تو اُس نے اُس شیشہ کو پانی سمجھا اور اپنا پاجامہ پنڈلی سے اوپر اٹھا لیا۔ حضرت سلیمان نے کہا کہ دھو کہ مت کھا یہ پانی نہیں ہے بلکہ یہ شیشہ ہے پانی اس کے نیچے ہے۔ تب وہ عقلمند عورت سمجھ گئی کہ اس پیرایہ میں میرے مذہب کی غلطی انہوں نے ظاہر کی ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ سورج اور چاند اور دوسرے روشن اجرام شیشہ کی مانند ہیں اور ایک پوشیدہ طاقت ہے جو ان کے پردہ کے نیچے کام کر رہی ہے اور وہی خدا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں اس جگہ فرمایا صَرْحُ مُمَرَّدٌ مِنْ قَوَارِيرَ لسودنیا کو خدا نے شیش محل سے مثال دی ہے جاہل ان شیشوں کی پرستش کرتے ہیں اور دانا اس پوشیدہ طاقت کے پرستار ہیں مگر وید نے اس شیش محل کی طرف کچھ اشارہ نہیں کیا اور ان ظاہری شیشوں کو پر میشور سمجھ لیا اور پوشیدہ طاقت سے بے خبر رہا۔ اور پھر ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَالشَّمْسِ وَضُحَهَا وَالْقَمَرِ إِذَا تَلْهَا کے یعنی قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی اور قسم ہے چاند کی جب سورج کی پیروی کرے یعنی چاند بغیر پیروی کے کچھ بھی چیز نہیں اور اس کا نور سورج کے نور سے مستفاض ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کو کیسا ہی اپنے اندر استعداد رکھتا ہے مگر جب تک وہ کامل طور پر خدا کی اطاعت نہ کرے اُس کو کوئی نور نہیں ملتا مگر افسوس ! یعنی یہ ایک محل ہے شیشوں سے بنایا گیا ۔ منہ النمل: ۴۵ ۲ الشمس : ۳۰۲