چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 4

روحانی خزائن جلد ۲۳ لد بس کرے گا جب تک کہ دنیا پر میری سچائی ظاہر نہ ہو جائے۔ ☆ چشمه معرفت لیکن آج ۵ ارمئی ۱۹۰۸ء کو میرے دل میں ایک خیال آیا ہے کہ ایک اور طریق فیصلہ کا ہے شاید کوئی خدا ترس اس سے فائدہ اٹھا دے اور انکار کے خطرناک گرداب سے نکل آوے اور وہ طریق یہ ہے کہ میرے مخالف منکروں میں سے جو شخص اشد مخالف ہو اور مجھ کو کافر اور کذاب سمجھتا ہوں وہ کم سے کم دس نامی مولوی صاحبوں یا دس نامی رئیسوں کی طرف سے منتخب ہو کر اس طور سے مجھ سے مقابلہ کرے جو دو سخت بیماروں پر ہم دونوں اپنے صدق و کذب کی آزمائش کریں یعنی اس طرح پر کہ دو خطرناک بیمار لے کر جو جدا جدا بیماری کی قسم میں مبتلا ہوں قرعہ اندازی کے ذریعہ سے دونوں بیماروں کو اپنی اپنی دعا کے لئے تقسیم کر لیں پھر جس فریق کا بیمار بکلی اچھا ہو جاوے یا دوسرے بیمار کے مقابل پر اس کی عمر زیادہ کی جائے وہی فریق سچا سمجھا جاوے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور میں پہلے سے اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر بھروسہ کر کے یہ خبر دیتا ہوں کہ جو بیمار میرے حصہ میں آوے گا یا تو خدا اُس کو بکلی صحت دے گا اور یا بہ نسبت دوسرے بیمار کے اُس کی عمر بڑھا دے گا اور یہی امر میری سچائی کا گواہ ہوگا اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر یہ سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ ۱۰ کی طرف سے نہیں لیکن یہ شرط ہو گی کہ فریق مخالف جو میرے مقابل پر کھڑا ہو گا وہ خود اور ایسا ہی دس اور مولوی یا دس رئیس جو اس کے ہم عقیدہ ہوں یہ شائع کر دیں کہ در حالت میرے غلبہ کے وہ میرے پر ایمان لائیں گے اور میری جماعت میں داخل ہوں گے اور یہ اقرارتین نامی اخباروں میں شائع کرانا ہوگا۔ ایسا ہی میری طرف سے بھی یہی شرائط ہوں گی ۔ اس قسم کے مقابلہ سے فائدہ یہ ہوگا کہ کسی خطرناک بیمار کی جو اپنی زندگی سے نومید ہو چکا ہے خدا تعالیٰ جان بچائے گا اور احیاء موتی کے رنگ میں ایک نشان ظاہر کرے گا اور دوسرے یہ کہ اس طور سے یہ جھگڑا بڑے آرام اور سہولت سے فیصلہ ہو جائے گا ۔ والسلام على من اتبع الهدى المشتهر ميرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود ۱۵ رمئی ۱۹۰۸ء حاشیہ : یہ بھی شرط ہے کہ وہ شخص عام لوگوں میں سے نہ ہو بلکہ قوم میں خصوصیت اور علمیت اور عزت اور تقویٰ کے ساتھ مشہور ہو جس کا مغلوب ہونے کی حالت میں دوسروں پر اثر پڑ سکے ۔ منہ