چشمہٴ معرفت — Page 213
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۱۳ ا چشمه معرفت ہے چھٹا حصہ ہے اور یہ اس حالت میں کہ مرنے والا کچھ اولا د چھوڑ گیا ہو۔ اور اگر مرنے والا لا ولد مرا ہو اور اُس کے وارث صرف ماں باپ ہوں تو ماں کا حصہ صرف ایک تہائی ہے۔ باقی سب باپ کا۔اگر ماں باپ کے علاوہ میت کے ایک سے زیادہ بھائی یا بہنیں ہوں تو اس صورت میں ماں کا چھٹا حصہ ہوگا ۔ لیکن یہ حصہ وصیت یا قرض کے ادا کرنے کے بعد دینا ہوگا۔ تمہارے باپ ہوں یا بیٹے تمہیں معلوم نہیں کہ اُن میں سے باعتبار نفع رسانی کے کونسا تم سے زیادہ قریب ہے پس جو حصے خدا نے قرار دے دیئے ہیں اُن پر کار بند ہو جاؤ کیونکہ وہ صرف خدا ہی ہے جس کا علم غلطی اور خطا سے پاک ہے اور جو حکمت سے کام کرتا اور ہر ایک سے کام کرتا اور ہر ایک مصلحت سے واقف - اور جو ترکہ تمہاری بیبیاں چھوڑ مریں پس اگر وہ لا ولد مر جاویں تو اُن کے ترکے میں سے تمہارا آدھا حصہ ہے اور اگر تمہاری بیبیوں کی اولاد ہے تو اس حالت میں اُن کے ترکہ میں سے تمہارا حصہ چوتھائی ہے مگر وصیت یا قرض کے ادا کرنے کے بعد ۔ اور اگر تم مر جاؤ اور تمہاری کچھ اولاد نہ ہو تو تمہاری بیبیوں کا حصہ تمہارے مال میں سے چوتھائی ہے اور اگر تمہاری اولاد ہو تو اُن کا حصہ تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ہے مگر اس امر کے بعد کہ پہلے اُن کی وصیت کی تعمیل کی جائے یا جو کچھ ان کے سر پر قرضہ ہے وہ ادا کیا جائے ۔ ہے اور اگر کسی مرد یا عورت کی میراث ہو اور وہ ایسا ہو کہ اُس کا نہ باپ ہو نہ بیٹا اور اُس کے بھائی یا بہن ہو تو ان بھائی یا بہنوں میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے اور اگر ۲۰۵ وہ ایک سے زیادہ ہوں تو اس صورت میں ایک تہائی میں سب شریک ہوں گے مگر ضروری ہو گا کہ پہلے وصیت کی تعمیل کی جائے یا اگر مرنے والے کے ذمہ قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے لیکن اس وصیت اور اس قرض میں ایک شرط ہے اور وہ یہ ہے کہ اس وصیت یا اس قرضہ کے ذریعہ سے مرنے والے نے کسی کو نقصان پہنچانا نہ چاہا ہو۔ اس طرح پر کہ ایک ثلث سے زیادہ کی وصیت کر دی ہو یا ایک فرضی قرضہ ظاہر کیا ہو۔ یہ خدا کا حکم ہے وہ خدا جس کے علم سے کوئی چیز با ہر نہیں اور وہ حلیم ہے اس لئے وہ باوجود علم کے نافرمان کو جلدی سزا نہیں دیتا یعنی