چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 201

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۰۱ چشمه معرفت وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ - قال اهل العلم بالتأويل المكر من الله تعالى جزاء سمى باسم مكر المجازی۔ ترجمہ۔ مکر اس حیلہ کو کہتے ہیں جو پوشیدہ رکھا جائے۔ جنگوں میں اس قسم کے خیلے حلال ہیں۔ اور ہر ایک حلال امر کو حیلہ کر کے ٹالنا یہ حرام ہے اور قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں نے اپنی دانست میں ایک بڑا مگر کیا اور ہم نے بھی مکر کیا اور وہ ہمارے مکر سے بے خبر تھے اور اہل علم کہتے ہیں کہ خدا کا مگر یہ ہے کہ مگار کو مکر کی سزا دینا۔ اور (۱۹۳ قرآن شریف میں پوری آیت یہ ہے وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ - قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيْهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَدِقُوْنَ - وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرُ نَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ - فَانْظُرُ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْتُهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ فَتِلْكَ بُيُوتُهُمُ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُوا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَا يَةً لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ - وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ کے (الجزء نمبر ۱۹ سورۃ النمل رکوع نمبر ۱۹۹۱۸) ترجمہ۔ اور شہر میں نو شخص ایسے تھے جن کا پیشہ ہی فساد تھا اور اصلاح کے روادار نہ تھے انہوں نے باہم قسمیں کھائیں کہ رات کو پوشیدہ طور پر شب خون مار کر اس شخص کو اور اس کے گھر والوں کو قتل کر دو اور پھر ہم اس کے وارث کو جو خون کا دعویدار ہو گا یہ کہیں گے کہ ہم تو ان لوگوں کے قتل کرنے کے وقت اس موقع پر حاضر نہ تھے اور ہم سچ سچ کہتے ہیں یعنی یہ بہانہ بنائیں گے کہ ہم تو قتل کرنے کے وقت فلاں فلاں جگہ گئے ہوئے تھے جیسا کہ اب بھی مجرم لوگ ایسے ہی بہانے بنایا کرتے ہیں تا مقدمہ نہ چلے ۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو دیکھ کہ اُن کے مکر کا انجام کیا ہوا ہم نے اُن کو اور اُن کی تمام قوم کو ہلاک کر دیا۔ اور یہ گھر جو ویران پڑے ہوئے ہیں یہ انہیں کے گھر ہیں ہم نے اس لئے ان کو یہ سزادی کہ یہ ہمارے برگزیدہ بندوں پر ظلم کرتے تھے اور باز نہیں آتے تھے۔ پس ہمارا یہ عذاب ان لوگوں کے لئے ایک نشان ہے جو جانتے ہیں۔ اور ہم نے ان ظالم لوگوں کے ہاتھ سے ا النمل: ۵۱ النمل: ۴۹ تا ۵۴