چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 199

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۹۹ چشمه معرفت طرفداری نہ ہو اس تحریر سے مجھے یقین ہو گیا ہے کہ یہ شخص ہوش و حواس کی قائمی سے بات نہیں کرتا کیونکہ جس قدر وید پکش پات اور طرفداری سے بھرا ہوا ہے اس کا نمونہ دوسری جگہ ملنا ناممکن ہے مثلاً اس سے بڑھ کر طرفداری کیا ہوگی کہ باوجود یکہ کروڑہا اربوں بلکہ بے شمار مدتوں سے دنیا چلی آتی ہے لیکن اب تک پر میشر نے اس طرفداری اور پکش پات کو نہیں چھوڑا کہ ہمیشہ آریہ ورت میں ہی دید کو اہی وید کو نازل کرتا رہا ہے اور سنسکرت زبان میں ہی نازل کرتا ہے 191 اور ہمیشہ اُس کی پارلیمنٹ میں ملہم بننے کے لئے اگنی ۔ وایو ۔ آدت ۔ انگرا ہی انتخاب کئے جاتے ہیں ۔ پس کیا اس طرفداری سے بڑھ کر کوئی اور بھی طرفداری ہوگی کہ جو دید میں پائی جاتی ہے کہ ہمیشہ الہامی کتاب کے لئے آریہ ورت کو ہی اختیار کرتا ہے اور قدیم سے سنسکرت زبان میں ہی الہام کرتا چلا آیا ہے ایسا ہی اُس کو الہام دینے کے لئے اگنی ، وایو، انگرا، آدت ہی پسند آتے ہیں ۔ اور ہمیشہ ایسی اعلیٰ جون اُن کو دیتا ہے کہ جو لائق الہام پانے کے ہوتی ہے اور یہ معاملہ نہ ایک دفعہ نہ دو دفعہ نہ تین دفعہ ظہور میں آتا ہے بلکہ بے شمار اربوں تک اس پر گزر چکے ہیں کہ وہ ایسا ہی کرتا ہے اور جس طرح گورنمنٹ برطانیہ کے افسروں کو گرمی کے دنوں میں شملہ پسند آیا ہوا ہے پر میشر کو آریہ ورت پسند آ گیا ہے۔ دوسرے ملکوں کے باشندوں سے بے وجہ ناراض ہے یا اب تک اس کو اُن کے وجود کا علم ہی نہیں ۔ اب کوئی آریہ صاحب انصاف سے فرمادے کہ کیا یہ طریق پر میشر کا طرفداری اور پکش پات ہے یا کوئی اور بات ہے؟ اور اگر کوئی اور بات ہے تو مع دلائل اُس کو بیان کر دیں ۔ مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی ایک یہ نشانی بتلائی کہ اس میں ایسی باتیں نہ ہوں کہ خدا نے فلاں کام میں مکاری کی۔ اس کا جواب ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ مکر ان باریک تدبیروں اور تصرفات کو کہتے ہیں کہ وہ ایسے مخفی اور مستور ہوں کہ جس شخص کے لئے وہ تدابیر عمل میں لائی گئی ہیں وہ اُن تدبیروں کو شناخت نہ کر سکے اور دھوکا کھا جائے پس مکر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ (۱) اوّل وہ کہ جن کے عملدرآمد سے ارادہ خیر اور بہتری کا کیا گیا ہے اور کسی کو نقصان پہنچانا