چشمہٴ معرفت — Page 190
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۹۰ چشمه معرفت ☆ وہ تو بہ اور استغفار کرے تو خدا کی رحمت اُس کو ہلاک ہونے سے بچالے اس لئے یہ یقینی امر ہے کہ اگر خدا تو بہ قبول کرنے والا نہ ہوتا تو انسان پر یہ بوجھ صد ہا احکام کا ہرگز نہ ڈالا جاتا ۔ اس سے بلا شبہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا تو اب اور غفور ہے اور توبہ کے یہ معنی ہیں کہ انسان ایک بدی کو اس اقرار کے ساتھ چھوڑ دے کہ بعد اس کے اگر وہ آگ میں بھی ڈالا جائے تب بھی وہ بدی ہرگز نہیں کرے گا۔ پس جب انسان اس صدق اور عزم محکم کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ۱۸۲ ہے تو خدا جو اپنی ذات میں کریم و رحیم ہے وہ اس گناہ کی سزا معاف کر دیتا ہے اور یہ خدا کی اعلیٰ صفات میں سے ہے کہ تو بہ قبول کر کے ہلاکت سے بچا لیتا ہے اور اگر انسان کو تو بہ قبول کرنے کی امید نہ ہو تو پھر وہ گناہ سے باز نہیں آئے گا ۔ عیسائی مذہب بھی تو بہ قبول کرنے کا قائل ہے مگر اس شرط سے کہ تو بہ قبول کرنے والا عیسائی ہو لیکن اسلام میں تو بہ کے لئے کسی مذہب کی شرط نہیں ہے۔ ہر ایک مذہب کی پابندی کے ساتھ تو بہ قبول ہو سکتی ہے اور صرف وہ گناہ باقی رہ جاتا ہے جو کوئی شخص خدا کی کتاب اور خدا کے رسول سے منکر رہے اور یہ بالکل غیر ممکن ہے کہ انسان محض اپنے عمل سے نجات پاسکے بلکہ یہ خدا کا احسان ہے کہ کسی کی وہ تو بہ قبول کرتا ہے اور کسی کو اپنے فضل سے ایسی قوت عطا کرتا ہے کہ وہ گناہ کرنے سے محفوظ رہتا ہے۔ مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی ایک یہ بھی نشانی بیان کی کہ اس میں اعلیٰ اخلاق سکھلائے گئے ہوں مگر مجھے تعجب ہے کہ اتنی جلدی کیوں یہ لوگ وید کی تعلیم کو تو بہ کرنے والے اپنا صدق ظاہر کرنے کے لئے صدقہ خیرات بھی کرتے ہیں اور اپنی طاقت سے زیادہ خدمات مالی اور جانی بجالاتے ہیں اور مجاہدہ اور اعمال صالحہ کی آگ سے اپنے تئیں جلا دیتے ہیں اور نہایت درجہ کی تبدیلی اپنے اندر پیدا کرتے ہیں اور موت تک اپنے تئیں پہنچا دیتے ہیں اور پھر وید کہتا ہے کہ تو بہ ان کی قبول نہیں ہوتی گویا وید اپنے پر میشر کو اس سخت دل انسان کی طرح قرار دیتا ہے جس کو اپنے جاں نثار خادم کی کچھ بھی پروانہیں مگر کیا انسانی فطرت قبول کر سکتی ہے کہ در حقیقت وہ خدا جس کے رحم کے سوا ایک دم بھی ہم جی نہیں سکتے ایسا ہی ہے ہر گز نہیں ۔ منہ