چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 177

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۷۷ چشمه معرفت تھی کہ خدا سے ڈرے اور راہ راست کو انصاف کے ساتھ دیکھے اور اُس کی شوخی حد سے بڑھ گئی تھی اور بجر بھٹھے اور ہنسی اور گالی کے کوئی اس کا شیوہ نہ تھا آخر میں نے اُس کو مباہلہ کے لئے بلایا یعنی اس بات کے لئے کہ وہ بجائے خود اور میں بجائے خود دعا کروں کہ خدا جھوٹے کو ہلاک کرے اور اس طرح پر مجھ میں اور اس میں فیصلہ کر دے۔ پس بد دعا کے وقت مجھ کو خدا نے اس کی نسبت بشارت دے دی کہ وہ چھ برس کے اندر قتل کے ذریعہ سے جواناں مرگ مرے گا اور عید کے بعد جو دن آتا ہے اس میں یہ پیشگوئی پوری ہوگی ۔ ایسا ہی لیکھرام نے میرے مقابل پر اپنا مباہلہ چھپوا دیا یعنی یہ دعا کہ بچے کے حق میں خدا فیصلہ کرے اور جھوٹے پر اپنا قہر نازل کرے یہ دعا اُس نے اپنی کتاب میں ابو جہل کی ط ابو جہل کی طرح بڑے درد دل سے لکھی ہے اور سے بھی ہے اور خدا سے فیصلہ چاہا ہے پس خدا نے اُس ۱۶۹ کے قتل کئے جانے سے یہ فیصلہ کر دیا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب میں جھوٹا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم در حقیقت پوتر اور پاک اور صادق ہیں اور نیز یہ کہ موجودہ ویدوں کی تعلیم صحیح نہیں ہے پھر نہ معلوم کہ اس خدائی فیصلہ کے بعد مضمون پڑھنے والے نے دوبارہ اعتراض کیوں پیش کر دیا کیا اس کو خدائی فیصلہ ہ سے سے تو تسلی نہ ہوئی اور اگر چہ ہم لیکھرام کا یہ مباہلہ اپنی ا کتاب حقیقۃ الوحی میں درج کر چکے ہیں مگر پھر بھی آریہ صاحبوں کی خاطر سے اس جگہ بھی درج کر دیتے ہیں اور ہم اُن کو متنبہ کرتے ہیں کہ پوتر اور پاک کی یہ نشانی ہے جو خدا کی گواہی سے اُس کا پاک ہونا ثابت ہو نہ صرف دعولی جیسا کہ وید کے رشیوں کے بارے میں کیا جاتا ہے۔ بھلا بتلاؤ کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے؟ کہ وید کے رشی پوتر تھے ۔ کون سی خدا نے گواہی اُن کے پوتر ہونے کے بارے میں ا دی دی ۔ ہے۔ اُن کی گندی تعلیمیں نیوگ وغیرہ صاف بتلا رہی ہیں کہ انہوں نے پاک راہ کی طرف ہدایت نہیں کی پھر وہ آپ کیوں کر پاک اور پوتر ٹھہر سکتے ہیں ۔ اب ہم ذیل میں لیکھرام کا مباہلہ درج کرتے ہیں۔ مضمون مباہلہ میں نیاز التیام لیکھرام ولد پنڈت تارا سنگھ صاحب شرما مصنف تکذیب براہین احمد یہ درسالہ ھذا