چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 165

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۶۵ چشمه معرفت ہیں ۔ غرض آیات ممدوحہ بالا سے روحوں کا مخلوق ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اور ایک اور آیت بھی روحوں کا مخلوق ہونا ثابت کرتی ہے اور وہ یہ ہے وَ خَلَقَ كُلَّ شَيْ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا الجز ونمبر ۱۸ سورۃ الفرقان ۔ یعنی خدا وہ ہے جس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا اور کوئی چیز اس کی پیدائش سے باہر نہیں اور اُس نے پیدا کر کے ہر ایک کے جسم اور طاقتوں اور قوتوں اور خواص ۱۵۷ اور صورت اور شکل کو ایک حد کے اندر محدود کر دیا تا اس کا محدود ہونا محدد پر دلالت کرے جو ذات باری عزاسمہ ہے مگر آپ وہ غیر محدود ہے اس لئے اس کی نسبت سوال نہیں ہو سکتا کہ اس کا محد دکون ہے۔ غرض آیت ممدوحہ بالا میں خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ ہر ایک چیز جو ظہور پذیر ہوئی ہے مع اپنی تمام قوتوں اور طاقتوں کے خدا کی پیدا کر دہ ہے پس یہی کامل توحید ہے جو خدا تعالیٰ کو تمام فیوض کا سرچشمہ قرار دیتی ہے اور کوئی ایسی چیز قرار نہیں دیتی جو اس کی پیدا کردہ نہیں یا اسی کے سہارے سے جیتی نہیں ۔ پھر دوسرا حصہ اس توحید کا یہ ہے کہ جیسا کہ کوئی چیز بجز خدا کے خود بخود موجود نہیں ایسا ہی ہر ایک چیز بجز خدا کے اپنی ذات میں فانی اور ہالک ہونے سے بری نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ کے یعنی ہر ایک چیز معرض بلاکت میں ہے اور مرنے والی ہے بجز خدا کی ذات کے کہ وہ موت سے پاک ہے اور اسی طرح ایک اور آیت میں فرمایا کہ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَان کے یعنی ہر ایک جو زمین پر ہے آخر مرے گا پس جیسا کہ خدا نے اس آیت میں کہ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ ہے لفظ كُل کے ساتھ جو احاطہ تامہ کے لئے آتا ہے ہر ایک چیز کو جو اس کے سوا ہے مخلوق میں داخل کر دیا ۔ ایسا ہی اس لفظ محل کے ساتھ اس آیت میں جو كُلُّ شَيْ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ ہے اور نیز اس آیت میں کہ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ہے ہر ایک چیز کے لئے بجز اپنی ذات کے موت ضروری ٹھہرا دی۔ پس جیسا کہ جسمی ترکیب میں انحلال ہو کر جسم پر موت آتی ہے ایسا ہی روحانی صفات میں تغیرات پیدا ہو کر روح پر موت آجاتی ہے مگر جو لوگ وجہ اللہ میں محو ہو کر مرتے ہیں وہ بباعث اس اتصال کے جو اُن کو حضرت عزت سے ا الفرقان: ٣ القصص : ۸۹ ۳ الرحمن : ۲۷