چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 156 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 156

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۵۶ چشمه معرفت سے سزا یاب ہوئے ایسے کاموں کے کرنے سے دل میں خوف پیدا ہو جاتا ہے کہ مبادا ہم ۱۴۸ بھی پکڑے جائیں سوتر غیب اور ترہیب کے لئے یہ ایک طریق ہے جس طریق سے انسانی فطرت ہمیشہ متاثر ہوتی چلی آتی ہے سو خدا تعالیٰ کی کامل کتاب کی یہی نشانی ہے جو انسانوں کو حق پر قائم کرنے کے لئے کسی مؤثر طریق کو اٹھا نہ رکھے اور ہر ایک طریق کو بیان کر دے سوقرآن شریف نے ان تمام طریقوں کو استعمال کیا اول کھول کھول کر سنا دیا کہ اچھے کام یہ ہیں اور بُرے کام یہ ہیں اور پھر اچھے کاموں کے نتیجے اور بُرے کاموں کے نتیجے کھول کر بتلا دیئے اور پھر ان امور کے بارے میں ان لوگوں کے حالات سنا دیئے جو پہلے زمانوں میں گذر چکے ہیں اور ظاہر ہے کہ نیک اعمال اور نیک اخلاق کی طرف مائل ہونے اور بد طریق کو ترک کرنے کے لئے قصوں کو بڑا دخل ہے یہاں تک کہ ناول پڑھنے والے بھی ان فرضی اور مصنوعی قصوں سے متاثر ہو جاتے ہیں اور در حقیقت اصلاح چلن اور تبدیل اخلاق کے لئے یہ ایک علمی ذریعہ ہے کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے اس ذریعہ سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہے ہیں اور اب بھی اٹھاتے ہیں ۔ مگر ہم آریوں کے موجودہ وید کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ وہ اس علمی ذریعہ کا بھی دشمن ہے۔ ماسوا اس کے قرآن شریف میں جس قدر قصے بیان کئے گئے ہیں ان کی تحریر سے صرف یہی غرض نہیں کہ گذشتہ لوگوں کے نیک کام اور بد کام پیش کر کے اُن کا انجام سنا دیا جاوے تا وہ رغبت یا عبرت کا ذریعہ ہوں بلکہ یہ بھی غرض ہے کہ ان تمام قصوں کو پیش گوئی کے رنگ میں بیان کیا گیا ہے اور جتلایا گیا ہے کہ اس زمانہ میں بھی ظالم اور شریر لوگوں کو انجام کار ایسی ہی سزائیں ملیں گی جیسی ہے جیسی پہلے شریر لوگوں کو ملی تھیں اور صادقوں اور راستبازوں کی ایسی فتح ہوگی جیسا کہ پہلے زمانوں میں ہوئی تھی۔ مجھے تعجب ہے کہ مضمون پڑھنے والے نے ایسی بیہودہ اور باطل نشانی الہامی کتاب کی لکھ کر کیوں وید کی پردہ دری کرائی اور کیوں عقلمندوں کو دید پر ہنسنے کا موقعہ دیا۔ اور اس بات کو کون نہیں جانتا کہ وید میں قصے بھی موجود ہیں کیا