چشمہٴ معرفت — Page 153
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۵۳ چشمه معرفت صورت میں بلا شبہ رشیوں کے دلوں پر ایسی کتاب کا نازل کرنا یا نہ نازل کرنا برابر ہوگا کیونکہ ۱۴۵ اس جگہ یہ سوال پیش ہوگا کہ جب کہ انسان اسی زبان کو سمجھ سکتا ہے جس کو بول سکتا ہے تو وید کے رشیوں کو ایسی زبان کیونکر سمجھ آسکتی تھی جس کو وہ بول نہ سکتے تھے۔ اور اگر کہو کہ پرمیشر نے رشیوں کو اُن کی اپنی زبان کے ذریعہ سے اس نامعلوم زبان کے معنے سمجھا دیئے تھے تو یہ عذر بھی دوسرے لفظوں میں اس بات کا اقرار ہے کہ پر میشر انسان کی زبان میں الہام کرتا ہے بلکہ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ پرمیشر ایسی زبان میں الہام کرنے سے پچھتایا جس کو وید کے رشی سمجھ نہیں سکتے تھے اور جب اس کو اپنی غلطی محسوس ہوئی تو آخر اس نے انسانوں کی زبان کے ذریعہ سے اس زبان کے معنی وید کے رشیوں کو سمجھائے پس کیا ایسی لغو حرکت سے یہ ثابت نہ ہوگا کہ پر میشر بھی اپنی جلد بازی سے غلطی کر بیٹھتا ہے اور اس پر اعتراض ہوگا کہ جس بات کو اس نے مجبور ہو کر آخر کو اختیار کیا وہ بات پہلے ہی کیوں اختیار نہ کی ۔ ماسوا اس کے جب کہ ہم خود اس بات کے گواہ ہیں کہ خدا تعالیٰ اب بھی دوسری زبانوں میں الہام کرتا ہے اور خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں اس گروہ میں داخل کیا ہے جو خدا تعالیٰ کے مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف ہوتے ہیں تو پھر ہم امور مشہودہ ثابت شدہ سے کیونکر انکار کر سکتے ہیں کیا آریہ سماج والوں کو خبر نہیں کہ وہ ہمارا الہام ہی تھا جس نے چھ چھ برس برس ۔ پہلے لے لیکھرام لیکھرام کی کی نسبت نسبت خو خبر دی ہی تھی تھی کہ کہ وہ وہ چھ چھ برس برس کی کی مدت تک عید سے ایک دن بعد بذریعہ قتل اس دنیا سے کوچ کرے گا اور وہ ہمارا الہام ہی تھا جس نے خبر دی تھی کہ مسمی سومراج اور اس کے دو ساتھی جو قادیان میں بدگوئی سے باز نہیں آئے تھے طاعون کے عذاب سے مریں گے ۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے اپنے اخبار شبھ چشتک کے ذریعہ سے گالیاں دینا اپنا شیوہ بنا رکھا تھا آخر طاعون نے دو تین دن میں ہی اُن کا قصہ پاک کیا ۔ ایسا ہی وہ ہمارا الہام ہی تھا جس نے تمام دنیا کے سخت زلازل کی خبر دی ۱۴۶