چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 134

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۳۴ چشمه معرفت ۱۲۶﴾ تو اب ہے یعنی بہت رجوع کرنے والا سو بندہ کا رجوع تو پشیمانی اور ندامت اور تذلل اور انکسار کے ساتھ ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کا رجوع رحمت اور مغفرت کے ساتھ اگر رحمت خدا تعالیٰ کی صفات میں سے نہ ہو تو کوئی مخلصی نہیں پاسکتا۔ افسوس ! کہ ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی صفات پر غور نہیں کی اور تمام مدار اپنے فعل اور عمل پر رکھا ہے مگر وہ خدا جس نے بغیر کسی کے عمل کے ہزاروں نعمتیں انسان کے لئے زمین پر پیدا کیں ۔ کیا اس کا یہ خلق ہو سکتا ہے کہ انسان ضعیف البنیان جب اپنی غفلت سے متنبہ ہو کر اس کی طرف رجوع کرے اور رجوع بھی ایسا کرے کہ گویا مر جاوے اور پہلا نا پاک چولہ اپنے بدن پر سے اُتار دے اور اُس کی آتش محبت میں جل جائے تو پھر بھی خدا اس کی طرف رحمت کے ساتھ توجہ نہ کرے کیا اس کا نام خدا کا قانون قدرت ہے؟ لعنة اللہ علی الکاذبین۔ نشان ہیں۔ مضمون پڑھنے والے نے اس بات پر کئی جگہ زور دیا کہ الہامی کتاب کے مندرجہ ذیل (۱) وہ ابتدائے آفرینش میں ہو۔ (۲) اس میں کوئی بات خلاف قانون قدرت نہ ہو۔ (۳) اُس کی تعلیم عالمگیر ہو۔ (۴) وہ کسی خاص ملک کی زبان نہ ہو۔ (۵) کوئی تاریخی واقعہ اس میں درج نہ ہو ۔ (۶) وہ تمام دینی دنیوی علوم کا سر چشمہ ہو۔ (۷) ملہمین کی زندگیاں پوتر یعنی پاک ہوں۔ (۸) ایشر کے اعلیٰ درجہ کے صفات اس میں درج ہوں ۔ (۹) اُس میں اعلیٰ اخلاق سکھلائے گئے ہوں۔ (۱۰) وہ کتاب اپنے آپ میں مکمل ہو۔ (11) اُس میں اختلاف نہ ہو۔ (۱۲) کسی کی اُس میں طرفداری نہ ہو۔ (۱۳) اُس میں ایسی باتیں نہ ہوں کہ فلاں موقع پر بے انصافی کی ۔ اور فلاں کام کر کے پچھتایا۔ فلاں کام میں مکاری کی ۔ دوسروں کے لوٹنے کا حکم دیا۔ پیدائش اور فنا کے بارے میں صحیح صحیح حالات درج ہوں ۔ (۱۴) راجا پر جا اور والدین اور اولاد وغیرہ سب کے حقوق انصاف سے درج ہوں ۔ (۱۵) اس میں ترمیم و تنسیخ نہ ہو اور نہ ہونے کی ضرورت ہو۔ وہ خاص ایشر کی زبان ہو۔