چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 128

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۲۸ چشمه معرفت در حقیقت قادر مطلق ہے کیونکہ جبکہ مذکورہ بالا دلائل سے جو ابھی ہم لکھ چکے ہیں قطعی اور یقینی طور پر ۱۲۰ ثابت ہو گیا کہ روحیں انادی اور قدیم نہیں ہیں بلکہ وہ پیدا ہوتی ہیں اور وید کا پرمیشر کہتا ہے کہ میں اُن روحوں کا پیدا کرنے والا نہیں ہوں تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اُس کے نزدیک ایک اور پر میشر ہے جو روحوں کو پیدا کرتا ہے اور اگر کہو کہ اگر پر میشر کو عام طور پر قادر مطلق مانا جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ پرمیشر اپنا ثانی بھی پیدا کر سکتا ہے اور خودکشی بھی کر سکتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دونوں امر اس کی صفات کاملہ کے منافی ہیں چونکہ وہ پہلے سے بتلا چکا ہے کہ وہ واحد لاشریک ہے اور نیز بتلا چکا ہے کہ وہ ازلی ابدی ہے موت اس پر وارد نہیں ہوتی اور یہ دونوں امر اُس کی صفات قدیمہ میں داخل ہیں تو وہ اپنی صفات قدیمہ کے برخلاف کوئی کام کیوں کرے گا ؟ اور چونکہ کمال تام اس کا واحد لاشریک ہونے اور ازلی ابدی ہونے میں ہے۔ پس وہ ایسے کام کی طرف کیوں متوجہ ہوگا جو اس کے کمال تام کے منافی ہے اور وہ اس بات سے برتر واعلیٰ ہے کہ کوئی نقص اپنے لئے روا رکھے کیونکہ کسی قسم کا نقص اس کی ذات بے عیب کے برخلاف ہے مگر پیدا کرنا تو اس کی ذات بے عیب کے برخلاف نہیں بلکہ پہلی صفت تو اس کی صفات کاملہ میں سے پیدا کرنا ہی ہے اور وہی عقلی طور پر اس کی شناخت - شناخت کے لئے ایک ذریعہ ہے اگر وہ پیدا ہی نہیں کر سکتا اور ارواح اور ذرات سب خود بخود ہیں تو کیونکر معلوم ہو؟ کہ وہ موجود بھی ہے۔ کیا صرف ارواح اور ذرات کے جوڑنے سے اس کی ذات کا پتہ لگ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں کیونکہ جو چیزیں قدیم سے خود بخود ہیں اور تمام قوتیں ان کی خود بخود ہیں تو وہ چیزیں بذریعہ اپنی انہیں قوتوں کے اتصال اور انفصال کی بھی قدرت رکھ سکتی ہیں۔ غرض خدا کی شناخت کی ضروری اور اوّل صفت یہی ہے کہ وہ پیدا کنندہ ہو اور تبھی وہ قادر مطلق اور سرب شکتی مان کہلا سکتا ہے کہ یہ قوت اُس میں پائی جائے ۔ پس جب کہ وید کا پرمیشر پیدا کرنے پر قادر نہیں اور پھر اُس نے یہ دعوی کیا ہے کہ میں سرب شکتی مان ہوں ۔ تو اس میں کیا شک ہے کہ اُس نے جھوٹ بولا ہے اور جھوٹ بھی ایسا کہ خود اس کے اقرار سے ثابت ہے اور یہ کہنا کہ نیستی سے ہستی نہیں ہو سکتی اس لئے پر میشر روحوں کے