چشمہٴ معرفت — Page 115
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۱۵ چشمه معرفت صاحب بیرج داتا کی طفیل سے ہیں جو نیوگ کے قابل تحسین طریق سے وجود پذیر ۱۰۷ ہوئے ہیں کیونکہ جب کہ نیوگ کئی لاکھ برس سے چلا آتا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ اگر ہم نیوگ کی پیدائش کا بہت ہی کم عدد رکھیں تا ہم نصف کے قریب نیوگ کی اولا دضرور ہوگی ۔ اگر یہی وید وڈیا ہے تو کسی کی کیا مجال ہے کہ اس میں دم مارے۔ ایک اور نمونہ وید کے قانون قدرت کا یاد آیا اور وہ یہ ہے کہ پنڈت دیا نند جن کا وید بهاش آریوں کے نزدیک بہت اعتبار کے لائق ہے وہ اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں لکھتے ہیں کہ جب کوئی جیو یعنی روح بدن سے نکلتی ہے تو اکاش میں گھومتی پھرتی ہے اور آخر شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر گرتی ہے اور کوئی مرد اس روح کو کھا لیتا ہے اور عورت سے ہم بستر ہوتا ہے تب بچہ پیدا ہوتا ہے مگر وید کو یہ سمجھ نہ آیا کہ اس صورت میں ماننا پڑتا ہے کہ رُوح دو ٹکڑے ہو کر کسی گھاس پات پر گرتی ہے کیونکہ انسان کا بچہ صرف مرد کے نطفہ سے ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ عورت کا نطفہ بھی اُس کے ساتھ شامل ہوتا ہے اور اس پر دلیل یہ ہے کہ بچہ کچھ اخلاق اور صورت باپ کی لیتا ہے اور کچھ ماں کی ۔ پس وید کے قانون قدرت پر قربان جائیں جس کو یہ بھی خبر نہیں کہ بچہ میں دو نطفوں کا اشتراک ہے اور جس کے نزدیک روح بھی دو ٹکڑے ہو سکتی ہے ۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے یہ بیان کیا کہ وید کا خدا مگر نہیں کرتا ۔ کرسی پر نہیں بیٹھتا ۔ جھوٹ نہیں بولتا ۔ سو واضح ہو کہ اس نادان نے اپنے خیال میں وید کے ان صفات کے بیان کرنے میں قرآن شریف پر زد کی ہے اور اس تحریر سے بھی اُس کی غرض یہ ہے کہ گویا قرآن شریف خدا تعالیٰ کو ایسی صفات کی طرف منسوب کرتا ہے جو اُس کی شان کے لائق نہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ اس زمانہ میں بجز قرآن شریف کے