چشمہٴ معرفت — Page 106
روحانی خزائن جلد ۲۳ ١٠٦ چشمه معرفت ۹۸ اور پھر اس فرض کرنے کے بعد تمام دوسری الہامی کتابوں کو نعوذ باللہ انسان کا افترا قرار دیا ہے حالانکہ ایسا اعتراض پیش کرنے کے وقت پہلے اس کے لئے ضروری تھا کہ وید کا ابتدائے زمانہ میں نازل ہونا ثابت کرتا اور اس کے منجانب اللہ ہونے پر کوئی دلیل پیش کرتا لیکن اُس نے کوئی دلیل پیش نہیں کی اور نہ کر سکتا تھا بلکہ جس خدا کو وید نے پیش کیا ہے اُس کے وجود کا بھی اُس نے کچھ ثبوت نہیں دیا تو پھر وید کی سچائی کا ثبوت کہاں سے میسر آوے اور پھر اگر فرض بھی کر لیں کہ وید ابتدائے زمانہ کا ہے تب بھی اُس کا ابتدائے زمانہ میں ہونا سچائی کی دلیل نہیں ہے۔ کیا ابتدائے زمانہ میں افترا کرنا اور جھوٹ بولنا انسان کو نہیں آتا تھا اور کیا صرف بعد میں افترا کا طریق نکلا ہے بلکہ جیسا کہ اوّل زمانہ میں سانپ بندر سؤ رسب موجود تھے ایسا ہی شریر انسان بھی موجود تھے ہاں تعداد میں کم تھے۔ پھر ماسوا اس کے یہ کہنا کہ خدا کے قانون میں تبدیلی غیر ممکن ہے ہاں انسانی قوانین بباعث کمی تجربہ اور کمی علم کے بدلائے جاتے ہیں یہ قول بھی ایسے لوگوں کا قول ہے کہ جنہوں نے انسانی قوانین پر بھی کبھی غور نہیں کی ۔ اگر مضمون پڑھنے والا گورنمنٹ کے کسی واضع قانون سے ہی ملاقات کرتا اور اُس سے دریافت کر لیتا کہ کیا ہمیشہ نیا قانون بنانے کا یہی ایک سبب ہوتا ہے کہ دراصل اس قانون میں کوئی غلطی ہوتی ہے اور پھر تجربہ کے بعد پتہ لگتا ہے کہ دراصل ہم نے فلاں فلاں امر میں غلطی کھائی ہے اور دوسرا کوئی بھی سبب نیا قانون بنانے کا نہیں ہوتا تو ایسا بے ہودہ اور احمقانہ خیال کبھی اُس کے منہ سے عام جلسہ میں نہ نکلتا بلکہ تبدیل قانون کا بھاری سبب وہ تبدیلیاں ہوتی ہیں جو انسان کے ذاتی حالات اور چال چلن اور ذہنی قومی اور اموال اور املاک اور اس کی تمدنی صورتوں یا جنگی طریقوں میں ظہور میں آتی ہیں مثلاً ایک وہ زمانہ تھا جو تیروکمان یا تلوار سے لڑائی ہوتی تھی اور دوسرے زمانہ میں بندوق وغیرہ وہ ہتھیار پیدا ہو گئے جنہوں نے تیروکمان کو بیکار کر دیا اور ساتھ ہی لڑائی کا قانون بھی بدل گیا۔ ایسا ہی جب ایک ملک