چشمہٴ معرفت — Page 100
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۰۰ چشمه معرفت روح کا پیدا کرنے والا ہے ایسا ہی وہ جسم کا بھی پیدا کرنے والا ہے اور دونوں پر اُس کا حق خالقیت ۹۲ ہے ماسوا اس کے جسم اور روح ایک دوسرے کی تاثیر قبول کرتے ہیں بعض وقت جسم کا سجدہ روح کے سجدہ کا محرک ہو جاتا ہے اور بعض وقت روح کا سجدہ جسم میں سجدہ کی حالت پیدا کر دیتا ہے کیونکہ جسم اور روح دونوں باہم مرا یا متقابلہ کی طرح ہیں ۔ مثلاً ایک شخص جب محض تکلف سے اپنے جسم میں ہنسنے کی صورت بناتا ہے تو بسا اوقات وہ سچی ہنسی بھی آجاتی ہے کہ جو روح کے انبساط سے متعلق ہے ایسا ہی جب ایک شخص تکلف سے اپنے؟ اپنے جسم میں یعنی آنکھوں میں ایک رونے کی صورت بناتا ہے تو بسا اوقات حقیقت میں رونا ہی آجاتا ہے جو روح کی درد اور رقت سے متعلق ہے۔ پس جبکہ یہ ثابت ہو چکا کہ عبادت کی اس قسم میں جو تذلل اور انکسار ہے جسمانی افعال کا روح پر اثر پڑتا ہے اور روحانی افعال کا جسم پر اثر پڑتا ہے۔ پس ایسا ہی عبادت کی دوسری قسم میں بھی جو محبت اور ایثار ہے انہیں تاثیرات کا جسم اور روح میں عوض معاوضہ ہے۔ محبت کے عالم میں انسانی روح ہر وقت اپنے محبوب کے گرد گھومتی ہے اور اس کے آستانہ کو بوسہ دیتی ہے۔ ایسا ہی خانہ کعبہ جسمانی طور پر محبان صادق کے لئے ایک نمونہ دیا گیا ہے اور خدا نے فرمایا کہ دیکھو یہ میرا گھر ہے اور یہ حجر اسود میرے آستانہ کا پتھر حمد ہے اور ایسا حکم اس لئے دیا کہ تا انسان جسمانی طور پر اپنے ولولہ عشق اور محبت کو ظاہر کرے سو حج کرنے والے حج کے مقام میں جسمانی طور پر اُس گھر کے گرد گھومتے ہیں ایسی صورتیں بنا کر کہ گویا خدا کی محبت میں دیوانہ اور مست ہیں ۔ زینت دور کر دیتے ہیں سرمنڈ وا دیتے ہیں اور مجذوبوں کی شکل بنا کر اس کے گھر کے گرد عاشقانہ طواف کرتے ہیں اور اس پتھر کو خدا کے آستانہ کا پتھر تصور کر کے بوسہ دیتے ہیں اور یہ جسمانی ولولہ روحانی تپش اور محبت کو پیدا کر دیتا ہے اور جسم اس گھر کے گرد طواف کرتا ہے اور سنگ آستانہ کو چومتا ہے اور روح اُس وقت محبوب حقیقی کے گرد طواف کرتا ہے اور اس کے روحانی آستانہ کو چومتا ہے اور اس طریق میں کوئی شرک نہیں ایک دوست ایک دوست جانی کا خط پا کر بھی اُس کو چومتا ہے کوئی مسلمان خانہ کعبہ کی پرستش نہیں کرتا اور نہ حجر اسود حـــاشـيـه : خدا کا آستانہ مصدر فیوض ہے یعنی اسی کے آستانہ سے ہر یک فیض ملتا ہے پس اسی کے لئے معبرین لکھتے ہیں کہ اگر کوئی خواب میں حجر اسود کو بوسہ دے تو علوم روحانیہ اس کو حاصل ہوتے ہیں کیونکہ حجر اسود سے مرا د منبع علم و فیض ہے ۔ منہ