چشمہٴ معرفت — Page 80
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۸۰ چشمه معرفت ۷۲ تا اُس کے ذریعہ سے تکمیل معرفت ہو۔ خدا کا نام ملھم اور منزل الوحی بھی ہے اور خدا کی صفات کی نسبت تعطل اور بیکاری جائز نہیں بلکہ جیسا کہ جسمانی تربیت کے لحاظ سے خدا ہمیشہ رزاق ہے ایسا ہی اُس کا رُوحانی رزق بھی روحانی تربیت کے لئے کبھی منقطع نہیں ہوتا اور ظاہر ہے کہ جیسا کہ ہمارے پہلے بزرگوں کی خوراک کے لئے زمین سے اناج پیدا ہوتا تھا۔ آسمان سے بارش ہوتی تھی۔ اب ہمارے زمانہ میں اُس قانون قدرت میں فرق نہیں آیا بلکہ ہمارے لئے بھی زمین اناج پیدا کرنے کے لئے موجود ہے بشرطیکہ ہم خود سعی اور کوشش میں کاہل نہ ہو جائیں۔ اور پانی بھی اپنے وقتوں پر ضرور برستا ہے اور یہ الگ امر ہے کہ ہم خود اس پانی سے فائدہ نہ اٹھاویں پھر جب کہ خدا تعالیٰ کا جسمانی قانون قدرت ہمارے لئے اب بھی وہی موجود ہے جو پہلے تھا تو پھر روحانی قانون قدرت اس زمانہ میں کیوں بدل گیا ؟ نہیں ہرگز نہیں بدلا ۔ پس وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ وحی الہی پر آئندہ کے لئے مہر لگ گئی ہے وہ سخت غلطی پر ہیں ہاں خدا کے احکام جو امر اور نہی کے متعلق ہیں وہ عبث طور پر نازل نہیں ہوتے بلکہ ضرورت کے وقت خدا کی نئی شریعت نازل ہوتی ہے یعنی ایسے زمانہ میں نئی شریعت نازل ہوتی ہے جب کہ نوع انسان پہلے زمانہ کی نسبت بد عقیدگی اور بد عملی میں بہت ترقی کر جائے اور پہلی کتاب میں اُن کے لئے کافی ہدایتیں نہ ہوں لیکن یہ امر ثابت شدہ ہے کہ قرآن شریف نے دین کے کامل کرنے کا حق ادا کر دیا ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا یعنی آج میں نے تمہارا دین تمہارے لئے کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی ہے اور میں اسلام کو تمہارا دین مقرر کر کے خوش ہوا ۔ سو قرآن شریف کے بعد کسی کتاب کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ جس قدر انسان کی حاجت تھی وہ سب کچھ قرآن شریف بیان کر چکا اب صرف مکالمات الہیہ کا دروازہ کھلا ہے اور وہ بھی خود بخود نہیں بلکہ سچے اور پاک مکالمات جو صریح اور کھلے طور پر نصرت الہی کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں اور بہت سے امور غیبیہ پرمشتمل ہوتے ہیں وہ بعد تزکیه نفس محض پیروی قرآن شریف اور اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل ہوتے ہیں۔ المائدة :