براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 58 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 58

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۵۸ نصرة الحق خدائے تعالی پر اعتراض ہوتا تھا کیونکہ جس حالت میں حضرت مسیح علیہ السلام یہودیوں کے تمام فرقوں تک جو مختلف فرقوں میں متفرق ہو چکے تھے اپنی دعوت کو ہنوز پہنچا نہیں سکے تھے اور اُن کے ہاتھ سے ایک فرقہ کو بھی ابھی ہدایت نہیں ہوئی تھی ۔ ایسی صورت میں تبلیغ کے کام کو نا تمام چھوڑ کر حضرت عیسی کا آسمان پر چڑھ جانا سراسر خلاف مصلحت اور اپنے فرض منصبی سے پہلو تہی کرنا تھا۔ اور خود ظاہر ہے کہ خدائے تعالیٰ کا محض بیہودہ طور پر اُن کو آسمان پر بٹھا دینا ایک بے سود اور لغو کام ہے جو ہرگز خدائے تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا۔ غرض حضرت عیسی علیہ السلام پر یہ ایک تہمت ہے کہ گویا وہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے ۔ سو جیسا کہ حضرت عیسی کی زندگی کے زمانہ میں بھی اُن کے دشمنوں نے محض تہمت کے طور پر ان کو کافر اور کذاب قرار دیا ویسا ہی اُن کی تعریف میں غلو کرنے والوں نے جو نادان دوست تھے بقول شخصے کہ پیراں پر ند مریداں پر انند ان کو مع جسم آسمان پر چڑھا دیا اور نہ صرف اسی قدر بلکہ ان کو خدا بھی بنا دیا۔ اور پھر جب اور بھی زمانہ گذر گیا تو یہ عقیدہ بھی تراشا گیا کہ وہ اسی جسم عنصری کے ساتھ پھر آسمان سے اُتریں گے اور آخری دورا نہی کا ہوگا اور وہی خاتم الانبیاء ہوں گے۔ غرض جس قدر جھوٹی کرامتیں اور جھوٹے معجزات حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف منسوب کئے گئے ہیں کسی اور نبی میں اُس کی نظیر نہیں پائی جاتی اور عجیب تریہ کہ با وجود ان تمام فرضی معجزات کے ناکامی اور نامرادی جو مذہب کے پھیلانے میں کسی کو ہو سکتی ہے وہ سب سے اول نمبر پر ہیں۔ کسی اور نبی میں اس قدر نا مرادی کی نظیر تلاش کرنا لا حاصل ہے مگر یاد رہے کہ اب اُن کے نام پر جو مذہب دنیا میں پھیل رہا ہے یہ ان کا مذہب نہیں ہے۔ اُن کی تعلیم میں خنزیر خوری اور تین خدا بنانے کا حکم اب تک انجیلوں میں نہیں پایا جاتا بلکہ یہ وہی مشرکانہ تعلیم ہے جس کی نبیوں نے مخالفت کی تھی۔ توریت کے دوہی بڑے بھاری اور ابدی حکم تھے اول یہ کہ انسان کو خدا نہ بنانا ۔ دوسرے یہ کہ سورکومت کھانا ۔ سو دونوں حکم پولوس مقدس کی تعلیم سے توڑ دیئے گئے ۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔