براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 46
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۴۶ نصرة الحق ہاتھ میں ہو اور صرف اسی پر کفایت نہیں بلکہ تب مانیں گے کہ ہم اس کتاب کو ہاتھ میں لے کر دیکھ لیں اور پڑھ لیں یا چاند کا ٹکڑایا سورج کا ٹکڑا اپنے ساتھ لائے جو زمین کو روشن کر سکے یا فرشتے اس کے ساتھ آسمان سے اُتریں جو فرشتوں کی طرح خارق عادت کام کر کے دکھلائیں یا دس میں مردے اُس کی دعا سے زندہ ہو جائیں او وہ شناخت کئے جائیں کہ فلاں فلاں شخص کے باپ دادا ہیں جو فلاں تاریخ مر گئے تھے اور صرف اسی قدر کافی نہیں بلکہ ساتھ اس کے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ عام شہروں میں مجلسیں منعقد کر کے لیکچر منعقد کر کے لیکچر دیں اور بلند آواز یچر دیں اور بلند آواز سے کہہ دیں کہ ۳۶ در حقیقت ہم مردے ہیں جو دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں آئے ہیں اور ہم اس لئے آئے ہیں کہ تا گواہی دیں کہ فلاں مذہب سچا ہے یا فلاں شخص جو دعویٰ کرتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں وہ سچ کہتا ہے اور ہم خدائے تعالیٰ کے منہ سے سن کر آئے ہیں کہ وہ سچا ہے۔ یہ وہ خود تراشیدہ معجزات ہیں جو اکثر جاہل لوگ جو ایمان کی حقیقت سے بکلی بے خبر ہیں مانگا کرتے ہیں۔ یا ایسے ہی اور بیہودہ خوارق جو خدائے تعالیٰ کی اصل منشاء سے ، ء سے بہت دور ہیں طلب کیا کرتے ہیں۔ جیسا کہ مدت ہوئی کہ آریوں میں سے ایک شیخ ہوئی کہ آریوں میں سے ایک شخص لیکھرام نام نے بھی قادیان میں آکر ایسے ہی نشان مجھ سے طلب کئے تھے اور ہر چند سمجھایا گیا کہ اصل غرض نشانوں کی صرف حق اور باطل میں امتیاز ہے اور صرف امتیاز دکھلانے کی حد تک وہ ظاہر ہوتے ہیں مگر نے تعصب نے اس قدر اس کو نا فہم اور غبی کر رکھا تھا کہ وہ اس حقیقت کو سمجھتا ہی نہیں تھا۔ آخر وہ نشانوں سے منکر ہونے کی وجہ سے بمقام لاہور خدا کے نشان کا ہی نشانہ ہو گیا۔ اور جیسا کہ اس کے حق میں اُس کی مفتر یا نہ پیشگوئی کے مقابل پر یہ پیشگوئی میں نے کی تھی کہ وہ چھ سال کے اندر مارا جائے گا ایسا ہی ظہور میں آیا۔ اور اس قضا و قدر کو جس کی نسبت پانچ برس پہلے لاکھوں انسانوں میں اعلان کیا گیا تھا کوئی روک نہ سکا۔ اور اسلام اور آریہ مذہب میں ایک امتیازی نشان ظاہر ہو گیا۔ کیونکہ میری طرف سے یہ دعوی تھا کہ مذہب اسلام سچا ہے اور لیکھرام کی طرف سے یہ دعوی تھا کہ آریہ مذہب سچا ہے اور لیکھرام نے اپنے دعوی کی تائید میں اپنی