براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 30

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۰ نصرة الحق کیا گیا کیونکہ اعراض خواہ صوری ہو یا معنوی فیض الٰہی سے محروم کر دیتا ہے۔ اور اس جگہ ہماری مراد اعراض صوری سے یہ ہے کہ ایک شخص خدائے تعالیٰ کے کلام سے بالکل منکر ہو۔ اور اعراض معنوی سے یہ مراد ہے کہ بظاہر منکر تو نہ ہولیکن رسم اور عادت اور نفسانی اغراض اور اقوال غیر کے نیچے دب کر ایسا ہو جائے کہ خدائے تعالیٰ کے کلام کی کچھ پرواہ نہ کرے۔ غرض یہ دو خبیث مرضیں ہیں جن سے بچنے کیلئے سچے مذہب کی پیروی کی ضرورت ہے۔ ۲۱) یعنی اول یہ مرض کہ خدا کو واحد لاشریک اور منتصف به تمام صفات کا ملہ اور قدرت تامہ قبول نہ کر کے اس کے حقوق واجبہ سے منہ پھیرنا اور ایک نمک حرام انسان کی طرح اُس کے اُن فیوض سے انکار کرنا جو جان اور بدن کے ذرہ ذرہ کے شامل حال ہیں۔ دوسرے یہ کہ بنی نوع کے حقوق کی بجا آوری میں کوتاہی کرنا۔ اور ہر ایک شخص جو اپنے مذہب اور قوم سے الگ ہو یا اُس کا مخالف ہو اس کی ایذا کیلئے ایک زہریلے سانپ کی طرح بن جانا اور تمام انسانی حقوق کو یک دفعہ تلف کر دینا۔ ایسے انسان در حقیقت مردہ ہیں اور زندہ خدا سے بے خبر ۔ زندہ ایمان لانا ہرگز ممکن نہیں جب تک انسان زندہ خدا کی تجلیات اور آیات عظیمہ سے فیضیاب نہ ہو۔ یوں تو بجز دہر یہ لوگوں کے تمام دنیا کسی نہ کسی رنگ میں خدا تعالیٰ کے وجود کی قائل ہے مگر چونکہ وہ قائل ہونا صرف اپنا خودتراشیدہ خیال ہے اور زندہ خدا کی اپنی ذاتی تجلی سے نہیں ہے اس لئے ایسے خیال سے زندہ ایمان حاصل نہیں ہو سکتا۔ جب تک خدائے تعالیٰ کی طرف سے انا الموجود کی آواز زور دار طاقتوں کے ساتھ معجزانہ رنگ میں اور خارق عادت کے طور پر سنائی نہ دے اور فعلی طور پر اس کے ساتھ دوسرے زبردست نشان نہ ہوں اُس وقت تک اُس زندہ خدا پر ایمان آنہیں سکتا۔ ایسے لوگ محض سنی سنائی باتوں کا نام خدایا پر میشر رکھتے ہیں اور صرف گلے پڑا ڈھول بجارہے ہیں اور اپنی شناسائی کی حد سے زیادہ لاف و گزاف اپنا پیشہ بنا رکھا ہے۔