براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 26

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۶ نصرة الحق دیکھ لیتا ہے کہ فی الواقع وہ صانع موجود ہے اور اس پاک کلام کی روشنی حاصل کرنے والا محض خشک معقولیوں کی طرح یہ گمان نہیں رکھتا کہ خدا واحد لاشریک ہے بلکہ صدہا چمکتے ہوئے نشانوں کے ساتھ جو اُس کا ہاتھ پکڑ کر ظلمت سے نکالتے ہیں واقعی طور پر مشاہدہ کر لیتا ہے کہ در حقیقت ذات اور صفات میں خدا کا کوئی بھی شریک نہیں اور نہ صرف اس قدر بلکہ وہ عملی طور پر دنیا کو دکھا دیتا ہے کہ وہ ایسا ہی خدا کو سمجھتا ہے اور وحدت الہی کی عظمت ایسی اس کے دل میں سما جاتی ہے کہ وہ الہی ارادہ کے آگے تمام دنیا کو ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح بلکہ مطلق لاشے اور سراسر کالعدم سمجھتا ہے۔ انسانی فطرت ایک ایسے درخت کی طرح واقع ہے جس کے ایک حصہ کی شاخیں نجاست اور پیشاب کے گڑھے میں غرق ہیں اور دوسرے حصے کی شاخیں ایک ایسے حوض میں پڑتی ہیں جو کیوڑہ اور گلاب اور دوسری لطیف خوشبوؤں سے پُر ہے اور ہر ایک حصے کی طرف سے جب کوئی ہوا چلتی ہے تو بد بو یا خوشبو کو جیسی کہ صورت ہو پھیلا دیتی ہے۔ اسی طرح نفسانی جذبات کی ہوا بد بو ظاہر کرتی ہے اور رحمانی نفحات کی ہوا پوشیدہ خوشبو کو پیرایۂ ظهور و بروز پہناتی ہے۔ پس اگر رحمانی ہوا کے چلنے میں جو آسمان سے اُترتی ہے روک ہو جائے تو انسان نفسانی جذبات کی تند و تیز ہواؤں کے ہر طرف سے طمانچے کھا کر اور اُن کی بد بوؤں کے نیچے دب کر ایسا خدائے تعالیٰ سے منہ پھیر لیتا ہے کہ شیطان مجسم بن جاتا ہے اور اسفل السافلین میں گرایا جاتا ہے اور کوئی نیکی اُس کے اندر نہیں رہتی اور کفر اور معصیت اور فسق و فجور اور تمام رذائل کے زہروں سے آخر ہلاک ہو جاتا ہے اور زندگی اُس کی جہنمی ہوتی ہے اور آخر مر نے کے بعد جہنم میں گرتا ہے اور اگر خدائے تعالیٰ کا فضل دستگیر ہوا اور فحات الہیہ اُس کے صاف اور معطر کرنے کے لئے آسمان سے چلیں اور اُس کی روح کو اپنی خاص تربیت سے دمبدم نورانیت اور تاز ، اور تازگی اور پاک طاقت بخشیں تو شیں تو وہ طاقت بالا سے قوت پا کر اس قدر اوپر کی طرف کھینچا جاتا ہے کہ فرشتوں کے مقام سے بھی اوپر گذر جاتا ہے۔ اس سے ثابت ہے کہ