براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 427
یادداشتیں ۴۲۷ براہین احمد احمدیہ یہ حصہ پنجم اسلام کا ہے کہ اُس کی آسمانی روشنی صرف ایک ہی طرف سے نظر نہیں آتی بلکہ ہر ایک طرف سے اس کے ابدی چراغ نمایاں ہیں ۔ اُس کی تعلیم بجائے خود ایک چراغ ہے اور اس کی قوت روحانی بجائے خود ایک چراغ ہے اور اس کے ساتھ جو خدا کی نصرت کے نشان ہیں وہ ہر ایک نشان چراغ ہے۔ اور جو شخص اس کی سچائی کے اظہار کے لئے خدا کی طرف سے آتا ہے وہ بھی ایک چراغ ہوتا ہے۔ میرا بڑا حصہ عمر کا مختلف قوموں کی کتابوں کے دیکھنے میں گذرا ہے مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے کسی دوسرے مذہب کی کسی تعلیم کو خواہ اس کا عقائد کا حصہ اور خواہ اخلاقی حصہ اور خواہ تدبیر منزلی اور سیاست مدنی کا حصہ اور خواہ اعمال صالحہ کی تقسیم کا حصہ ہو قرآن شریف کے بیان کے ہم پہلو نہیں پایا اور یہ قول میرا اس لئے نہیں کہ میں ایک شخص مسلمان ہوں بلکہ سچائی مجھے مجبور کرتی ہے کہ میں یہ گواہی دوں اور یہ میری گواہی بے وقت نہیں بلکہ ایسے وقت میں ہے جب کہ دنیا میں مذاہب کی گشتی شروع ہے۔ مجھے خبر دی گئی ہے کہ اس گشتی میں آخر کارا سلام کو غلبہ ہے ۔ میں زمین کی باتیں نہیں کہتا کیونکہ میں زمین سے نہیں ہوں بلکہ میں وہی کہتا ہوں جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا ہے زمین کے لوگ خیال کرتے ہوں گے کہ شاید انجام کار عیسائی مذہب دنیا میں پھیل جائے یا بدھ مذہب تمام دنیا پر حاوی ہو جائے ائے مگر وہ اس خیال میں غلطی پر ہا طی پر ہیں ۔ یادر ہے کہ ۱۲ ہیں زمین پر کوئی بات ظہور میں نہیں آتی جب تک وہ بات آسمان پر قرار نہ پائے ۔ سو آسمان کا خدا مجھے بتلاتا ہے کہ آخر اسلام کا مذہب دلوں کو فتح کرے گا ۔ اس مذہبی جنگ میں مجھے حکم ہے کہ میں حکم کے طالبوں کو ڈراؤں ۔ اور میری مثال اس شخص کی ہے جو ایک خطرناک ڈاکوؤں کے گروہ کی خبر دیتا ہے جو ایک گاؤں کی غفلت کی حالت میں اس پر کہ مارنا چاہتے ہیں ۔ پس جو ہیں ۔ پس جو شخص اُس کی سنتا ہے وہ اپنا مال اُن ڈاکوؤں کی دستبرد سے بچا لیتا ہے اور جو نہیں سنتا وہ غارت کیا جاتا ہے۔ ہمارے وقت میں دو قسم کے ڈاکو ہیں