براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 411
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۴۱۱ خاتمة خاتمه نصرة الحق الف بڑا اہم مطلب جو اس خاتمہ میں لکھنے کے لئے پیش نظر ہے وہ یہ ہے کہ گذشتہ چار بام مجمل بیان کئے گئے ہیں یا جن پیشگوئیوں کا ان حصوں میں حصوں میں جو جو امور یا جو جو الہام لهام جم ذکر ہو چکا ہے اور وہ اس زمانہ میں ظہور میں نہیں آئیں مگر بعد میں رفتہ رفتہ ظہور میں آگئیں ان سب امور کے ظہور اور وقوع کا اس خاتمہ میں ذکر کیا جائے اور جن امور کی بعد میں حقیقت کھل گئی اس حقیقت کو بیان کیا جائے ۔ پس یہ حصہ پنجم در حقیقت پہلے حصوں کے لئے بطور شرح کے ہے اور ایسی شرح کرنا میرے اختیار سے باہر تھا جب تک خدا تعالیٰ تمام سامان اپنے ہاتھ سے میسر نہ کرتا ۔ کیونکہ حصص سابقہ کی الہامی پیشگوئیوں میں بہت سے نشانوں کے ظاہر ہونے کا وعدہ دیا گیا ہے۔ اور یہ بھی وعدہ ہے کہ خدا تعالیٰ اس عاجز کو قرآن شریف کے حقائق اور معارف سکھلائے گا اور انہیں حصوں میں میرا نام مریم اور عیسی اور موسیٰ اور آدم غرض تمام انبیاء کا نام رکھا گیا ہے ۔ اور یہ راز بھی معلوم نہ تھا کہ کیوں رکھا گیا اور ان تمام امور کا سمجھنا بجز الہی طاقت کے میرے لئے غیر ممکن تھا۔ خاص کر آسمانی نشانوں کا ظاہر کرنا تو وہ امر ہے جو بدیہی طور پر بشری قوت سے بالاتر اور بلندتر ہے۔ اور ان تمام امور کے ظاہر ہونے کے لئے خدا تعالیٰ کے ارادہ نے ایک وقت مقدر کر رکھا تھا اور کتاب کے پنجم حصہ کا لکھنا انہیں امور کی شرح پر موقوف ۔ پس اس صورت میں کیونکر ممکن تھا کہ بغیر ظہور ان امور کے جو حصص سابقہ کے لئے بطور شرح کے تھے پنجم حصہ لکھا جاتا کیونکہ وہی امور تو پنجم حصہ کے لئے نفس مضمون تھے اور جب مدت التوا پر چوبیسواں سال آیا تو عنایت الہی کی نسیم رحمت ب)