براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 408
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۴۰۸ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم نہ کی آمد کی پیشگوئی ۔ غرض یہ نمونہ قائم کرنے کے لئے میرا نام عیسی رکھا گیا ۔ اور نہ صرف اس قدر بلکہ اس عیسی کے مکذب جو اس اُمت میں ہونے والے تھے ان کا نام یہود رکھا گیا چنانچہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں انہیں یہودیوں کی طرف اشارہ ہے ۔ یعنی وہ یہودی جو اس امت کے عیسیٰ سے منکر ہیں جو ان یہودیوں کے مشابہ ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ کو قبول نہیں کیا تھا۔ پس اس طور سے کامل درجہ پر مشابہت ثابت ہو گئی کہ جس طرح وہ یہودی جو الیاس نبی کی دوبارہ آمد کے منتظر تھے حضرت عیسیٰ پر محض اس عذر سے کہ الیاس دوبارہ دنیا میں نہیں آ یں آیا ایمان نہ لائے ۔ اسی طرح یہ لوگ اِس اُمت کے عیسی پر محض اس عذر پر حض اس عذر سے ایمان ائے کہ وہ اسرائیلی عیسی دوبارہ دنیا میں نہیں آ ہیں آیا ۔ پس ان یہودیوں میں جو حضرت عیسی پر ایمان نہیں لائے تھے اس وجہ سے کہ الیاس دوبارہ دنیا میں نہیں آیا اور ان یہودیوں میں جو حضرت عیسی کی دوبارہ آمد کے منتظر ہیں مشابہت ثابت ہو گئی اور یہی خدا تعالیٰ کا مقصد تھا۔ اور جیسا کہ اسرائیلی یہودیوں اور ان یہودیوں میں مشابہت ثابت ہوگئی اسی طرح اسرائیلی عیسی اور اس عیسی میں جو میں ہوں مشابہت بدرجہ کمال پہنچ گئی کیونکہ وہ عیسی اسی وجہ سے یہودیوں کی نظر سے رڈ کیا گیا کہ ایک نبی دوبارہ دنیا میں نہیں آیا اسی طرح یہ عیسیٰ جو میں ہوں ان یہودیوں کی نگاہ میں رد کیا گیا ہے کہ ایک نبی دوبارہ دنیا میں نہیں آیا۔ اور صاف ظاہر ہے کہ جن لوگوں کو احادیث نبویہ اس امت کے یہودی ٹھہراتی ہیں جن کی طرف آیت ۲۳۳﴾ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ بھی اشارہ کرتی ہے وہ اصل یہودی نہیں ہیں بلکہ اسی اُمت کے لوگ ہیں جن کا نام یہودی رکھا گیا ہے۔ اسی طرح وہ عیسیٰ بھی اصل عیسی نہیں ہے جو بنی اسرائیل میں سے ایک نبی تھا بلکہ وہ بھی اسی اُمت میں سے ہے اور یہ خدا تعالیٰ کی اس رحمت اور فضل سے بعید ہے جو اس اُمت کے شامل حال رکھتا ہے کہ وہ اِس اُمت کو یہودی کا خطاب تو دے بلکہ ان یہودیوں کا خطاب دے جنہوں نے الیاس نبی کے دوبارہ آنے کی حجت پیش کر کے حضرت عیسیٰ کو کافر اور کذاب ٹھہرایا تھا لیکن اِس اُمت کے کسی فرد کو عیسیٰ کا خطاب نہ دے تو کیا