براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 389
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۸۹ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم بقيه حاشيه ائمہ اور اکابر متصوفین اس بات کے قائل ہیں کہ مومن جو طیب اور مطہر ہوتے ہیں وہ بجرد فوت ہونے کے ایک پاک اور نورانی جسم پاتے ہیں جس کے ذریعہ سے وہ نعماء جنت سے لذت اٹھاتے ہیں اور بہشت کو صرف شہیدوں کے لئے مخصوص کرنا ایک ظلم ہے بلکہ ایک کفر ہے کیا کوئی مومن کے لئے ضروری ہے۔ کیونکہ کاٹھ پر لٹکائے جانے کا نتیجہ صرف رفع روحانی سے محروم رہنا اور لعنتی بننا ہے نہ اور کچھ ۔ اور نہ یہ لوگ اس مسئلہ میں عیسائیوں کے ساتھ اتفاق رکھتے ہیں کیونکہ عیسائی حضرت عیسی کے رفع جسم کے تو قائل ہیں مگر ان لوگوں کی طرح جسم عنصری کے رفع کے قائل نہیں بلکہ جلالی جسم کے رفع کے قائل ہیں جو بزعم ان کے بعد موت حضرت عیسیٰ کو ملا ۔ سو ہم اس بات سے منکر نہیں ہو سکتے کہ بعد موت حضرت عیسی کو جلا لی جسم ملا ہو جو خا کی جسم نہیں ہے ﴿۲۱۵ کیونکہ وہ ہر ایک مومن راستباز کو بعد موت ملتا ہے جیسا کہ آیت و ادخلی جنتی اس پر شاہد ہے۔ کیونکہ مجرد روح بہشت میں داخل ہونے کے لائق نہیں ۔ پس اس میں حضرت عیسی کی کوئی خصوصیت نہیں ۔ ہاں عیسائیوں کی یہ غلطی ہے کہ جو عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ جلالی جسم صلیبی موت کے بعد حضرت عیسی کو ملا تھا ۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ صلیب پر ہرگز نہیں مرے ورنہ وہ نعوذ باللہ اپنے لئے یونس نبی کی مثال پیش کرنے میں دروغ گوٹھہرتے ہیں اور نیز لعنت کے مفہوم کے مصداق بنتے ہیں ۔ کیونکہ ملعون وہ ہوتا ہے جس کا دل شیطان کی طرح خدا سے برگشتہ ہو جائے اور وہ خدا کا دشمن اور خدا اس کا دشمن ہو جائے اور شیطان کی طرح راندہ درگاہ الہی ہو کر خدا کا سرکش ہو جائے تو کیا ہم یہ مفہوم حضرت عیسی کی نسبت تجویز کر سکتے ہیں ؟ ہر گز نہیں ۔ اور کیا کوئی عیسائی یہ گستاخی کر سکتا ہے کہ صلیب پانے کے بعد حضرت عیسی خدا سے برگشتہ ہو گئے تھے اور شیطان سے تعلقات پیدا کر لئے تھے ۔ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے لعنت کا یہی مفہوم قرار دیا ۲۱۲ گیا ہے جس پر تمام قوموں کو اتفاق ہے ۔ مگر افسوس عیسائیوں نے کبھی اس مفہوم پر غور نہیں کی ورنہ ہزار بیزاری سے اس مذہب کو ترک کرتے ۔ ماسوا اس کے جن واقعات کو انجیلوں نے پیش کیا ہے اُن سے ظاہر ہے کہ صلیب سے رہائی پانے کے بعد صرف خاکی جسم حضرت عیسی کا مشاہدہ کیا گیا