براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 385
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۸۵ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم ☆ یہ معنے نہیں کرتا کہ زندہ مع جسم عنصری آسمان پر جا بیٹھ ۔ بلکہ آیت ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ کے معنے موت ہی لئے جاتے ہیں۔ پس جب کہ خدا تعالیٰ کی طرف واپس جانا بموجب نص صریح قرآن شریف کے موت ہے تو پھر خدا کی طرف اٹھائے جانا جیسا کہ آیت بل رفعه الله اليه سے ظاہر ہوتا ہے کیوں موت نہیں کہ یہ تو انصاف اور عقل اور تقویٰ کے برخلاف ہے کہ جو معنے نصوص قرآنیہ سے ثابت اور متحقق ہوتے ہیں اُن کو ترک کیا جائے۔ اور جن معنوں اور جس محاورہ کی اپنے پاس کوئی بھی دلیل نہیں اس پہلو کو اختیار کیا جائے۔ کیا کوئی بتلا سکتا ہے کہ رفع الی اللہ کے زبان عرب اور محاورہ عرب میں بجز وفات دیئے جانے کے کوئی اور بھی معنے ہیں؟ ہاں اس وفات سے ایسی وفات L حد ایسا ہی بہت سی اور آیتیں قرآن شریف کی ہیں جن سے بداہت یہی معلوم ہوتا ہے کہ رفع الی اللہ اور رجوع الی اللہ کے الفاظ ہمیشہ فوت ہی کے لئے آیا کرتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ قُلْ يَتَوَفَّكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ - یعنی وہ فرشتہ تمہیں وفات دیگا جو تم پر موکل ہے اور پھر تم اپنے رب کی طرف واپس کئے جاؤ گے۔ اور جیسا کہ ایک دوسری جگہ فرقان حمید میں فرماتا ہے كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ یعنی ہر نفس موت کا مزا چکھے گا اور پھر ہماری طرف واپس کئے جاؤ گے ۔ اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَرَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّا ۔ یعنی ہم نے اس کو یعنی اس نبی کو عالی مرتبہ کی جگہ اٹھا لیا۔ اس آیت کی تشریح یہ ہے کہ جو لوگ بعد موت خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں ان کے لئے کئی مراتب ہوتے ہیں سو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اس نبی کو بعد اٹھانے کے یعنی وفات دینے کے اس جگہ عالی مرتبہ دیا۔ نواب صدیق حسن خاں اپنی تفسیر فتح البیان میں لکھتے ہیں کہ اس جگہ رفع سے مراد رفع روحانی ہے جو موت کے بعد ہوتا ہے ۔ ورنہ یہ محذور لازم آتا ہے کہ وہ نبی مرنے کے لئے زمین پر آوے ۔ افسوس ان لوگوں کو آیت انّی متوفیک و رافعک التی میں یہ معنے بھول جاتے ہیں حالانکہ اس آیت میں ۲۱۳ پہلے متوفیک کا لفظ موجود ہے اور بعد اس کے رافعک۔ پس جبکہ لفظ رافعک میں معنے موت لے سکتے ہیں تو متوفیک اور رافعک کے معنے کیوں موت نہیں ہیں ؟ منه ا السجدة : ١٢ العنكبوت : ۵۸ مریم : ۵۸