براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 375
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۷۵ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم سچ پر ہے۔ اور پھر اس بحث کے طے ہونے کے بعد دوسری فروعی بخشیں غیر ضروری ہو جاتی ہیں بلکہ فریق مغلوب کے دوسرے عذرات خود بخود رد ہو جاتے ہیں ۔ سو طالب حق کے لئے نہایت ضروری یہی مسئلہ ہے جس پر اسے پوری توجہ کے ساتھ غور کرنا لازم ہے۔ اس جگہ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ قرآن شریف نے صریح لفظوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا بیان فرمایا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صریح لفظوں ﴿۲۰۳ میں حضرت عیسی کا ان ارواح میں داخل ہونا بیان فرمادیا ہے جو اس دنیا سے گذر چکی ہیں۔ اور اصحاب رضی اللہ عنہم نے کھلے کھلے اجماع کے ساتھ اس فیصلہ پر اتفاق کر لیا ہے کہ تمام نبی فوت ہو چکے ہیں کیا پھر بھی ہمارے مخالف بار بار حضرت عیسیٰ کی حیات کو پیش کرتے ہیں۔ قرآن شریف اتھ حاشيه ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم کو آپ کی وفات سے سخت صدمہ گذرا تھا اور اسی صدمہ کی وجہ سے حضرت عمرؓ نے بعض منافقوں کے کلمات سن کر فرمایا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ دنیا میں آئیں ۔ ئیں گے اور منافقوں کے ناک اور کان کاٹیں گے۔ پس چونکہ یہ خیال غلط تھا اس لئے اول حضرت ابو بکر صدیق حضرت عائشہ صدیقہ کے گھر آئے اور آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر سے چادر اٹھا کر پیشانی مبارک کو بوسہ دیا اور کہا ۔ أَنْتَ طَيِّبٌ حَيًّا و مَيْتًا لَنْ يَجْمَعَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْمَوْتَيْنِ إِلَّا مَوْتَتَكَ الأولی یعنی تو زندہ اور میت ہونے کی حالت میں پاک ہے خدا تعالیٰ ہرگز تیرے پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا مگر پہلی موت ۔ اس قول سے مطلب یہی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں واپس نہیں آئیں گے اور پھر تمام اصحاب رضی الله عنهم کو مسجد نبوی میں جمع کیا۔ اور حسن اتفاق سے اس دن تمام صحابہ جو زندہ تھے مدینہ میں موجود تھے پس سب کو جمع کر کے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ۲۰۴ نے منبر پر چڑھ کر یہ آیت پڑھی ۔ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف L نبی ہیں اور پہلے اس سے سب نبی فوت ہو چکے ہیں۔ پس کیا اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو جائیں ال عمران : ۱۴۵