براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 14
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۴ نصرة الحق اُس رُخ کو دیکھنا ہی تو ہے اصل مدعا جنت بھی ہے یہی کہ ملے یار آشنا اے حب جاہ والو یہ رہنے کی جانہیں اس میں تو پہلے لوگوں سے کوئی رہا نہیں دیکھو تو جائے اُن کے مقابر کو اک نظر سوچو کہ اب سلف ہیں تمہارے گئے کدھر اک دن وہی مقام تمہارا مقام ہے اک دن یہ صبح زندگی کی تم پہ شام ہے اک دن تمہارا لوگ جنازہ اُٹھائیں گے پھر دفن کر کے گھر میں تاسف سے آئیں گے اے لوگو! عیش دنیا کو ہرگز وفا نہیں کیا تم کو خوف مرگ و خیالِ فنا نہیں سوچو کہ باپ دادے تمہارے کدھر گئے کس نے بلا لیا وہ سبھی کیوں گزر گئے وہ دن بھی ایک دن تمہیں یا رو نصیب ہے خوش مت رہو کہ کوچ کی نوبت قریب ہے ڈھونڈ و وہ راہ جس سے دل وسینہ پاک ہو نفس دنی خدا کی اطاعت میں خاک ہو ملتی نہیں عزیز و فقط قصوں سے یہ راہ وہ روشنی نشانوں سے آتی ہے گاہ گاہ وہ لغو دیں ہے جس میں فقط قصہ جات ہیں اُن سے رہیں الگ جو سعید الصفات ہیں صد حیف اس زمانہ میں قصوں پہ ہے مدار قصوں پہ سارا دیں کی سچائی کا انحصار پر نقد معجزات کا کچھ بھی نشاں نہیں پس یہ خدائے قصہ خدائے جہاں نہیں دنیا کو ایسے قصوں نے یکسر تنبہ کیا مشرک بنا کے کفر دیا روسیہ کیا جس کو تلاش ہے کہ ملے اُس کو کردگار اُس کے لئے حرام جو قصوں پہ ہو شار اُس کا تو فرض ہے کہ وہ ڈھونڈے خدا کا نور تا ہو وے شک و شبہ بھی اُس کے دل سے دور تا اُس کے دل پر نور یقیں کا نزول ہو تا وہ جناب عز وجل میں قبول ہو