براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 370
روحانی خزائن جلد ۲۱ ٣٧٠ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم تو کوئی شرط نہ تھی۔ مگر وہ قوم بھی تو بہ واستغفار سے بچ گئی۔ ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ وعید کی پیشگوئیاں تو بہ و استغفار سے تاخیر پذیر ہو سکتی ہیں بلکہ منسوخ ہو سکتی ہیں جیسا کہ یونس کی قوم کی نسبت جو ہلاک کرنے کا وعدہ تھا صرف تو بہ سے مل گیا مگر افسوس اس زمانہ کے یہ لوگ کیسے اندھے ہیں کہ بار بار ان کو کتاب اللہ کے موافق جواب دیا جاتا ہے اور پھر نہیں سمجھتے۔ کیا ان کے نزدیک یونس نبی سچا نبی نہیں تھا؟ جس کی پیشگوئی بغیر کسی شرط کے تھی اور قطعی پیشگوئی تھی کہ چالیس دن میں اُس کی قوم عذاب سے ہلاک کی جائے گی مگر وہ قوم ہلاک نہ ہوئی مگر اس جگہ تو ایسا اعتراض آتا نہ تھا جیسا کہ حضرت یونس کی پیشگوئی پر آتا تھا۔ اس جگہ تو عبد اللہ آتھم اور احمد بیگ اور اُس کے داماد کی موت کی نسبت شرطی پیشگوئیاں تھی۔ تعجب ہے کہ چار پیشگوئیوں میں سے تین پیشگوئیاں پوری ہو چکیں۔ اور عبداللہ آتھم اور احمد بیگ اور لیکھرام مدت ہوئی کہ پیشگوئیوں کے مطابق اس جہاں سے گزر گئے پھر بھی یہ لوگ اعتراض سے باز نہیں آتے ۔ اور یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ احمد بیگ کی لڑکی کے لئے طرح طرح کی امید دینے سے کیوں کوشش کی گئی۔ نہیں سمجھتے کہ وہ کوشش اسی غرض سے تھی کہ وہ تقدیر اس طور سے ملتوی ہو جائے اور وہ عذاب ٹل جائے۔ یہی کوشش عبد اللہ آتھم اور لیکھر ام سے بھی کی گئی تھی ۔ یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ کسی پیشگوئی کے پورا کرنے کے لئے کوئی جائز کوشش کرنا حرام ہے۔ ذرہ غور سے اور حیا سے سوچو کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن شریف میں یہ وعدہ نہیں دیا گیا تھا کہ عرب کی بت پرستی نابود ہو گی اور بجائے بت پرستی کے اسلام قائم ہوگا اور وہ دن آئے گا کہ خانہ کعبہ کی کنجیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہوں گی۔ جس کو چاہیں گے دیں گے اور خدا یہ سب کچھ آپ کرے گا مگر پھر بھی اسلام کی اشاعت کے لئے ایسی کوشش ہوئی جس کی تفصیل کی ضرورت نہیں بلکہ حدیث صحیح میں ہے کہ اگر کوئی خواب دیکھے اور اس کی کوشش سے وہ خواب پوری ہو سکے تو اس رویا کو اپنی کوشش سے پوری کر لینا چاہیے۔