براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 348
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۴۸ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم انی متوفیک و رافعک التی کے اس طرح قرآن شریف میں لکھ دیتے کہ یا عیسی انی رافعک الی و متوفیک مگر اس طرح کی تحریف بھی غیر ممکن تھی۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں چار وعدے فرمائے ہیں۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ ۔ وَرَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ ۔ یہ چار وعدے ہیں جن پر نمبر لگا دیئے گئے اور جیسا کہ احادیث صحیحہ اور خود قرآن شریف سے ثابت ہے وعدہ مطهّرك من الذين كفروا جو وعده رفع کے بعد تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پورا ہو گیا کیونکہ آپ نے حضرت عیسی علیہ السلام کے دامن کو ان بے جا تہمتوں سے پاک کیا جو یہود اور نصاری نے اُن پر لگائی تھیں۔ اس طرح یہ چوتھا وعده یعنی وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ اسلام کے غلبہ اور شوکت سے پورا ہو گیا۔ پس اگر متوفیک کے لفظ کو متاخر کیا جائے اور لفظ رافعک الی مقدم کیا جائے ۔ جیسا کہ ہمارے مخالف چاہتے ہیں تو اس صورت میں فقرہ رافعک التی فقرہ مطهرک سے پہلے نہیں آسکتا کیونکہ فقرہ مطهرک کا وعدہ پورا ہو چکا ہے اور بموجب قول ہمارے مخالفوں کے متوفیک کا وعدہ ابھی پورا نہیں ہوا اور اسی طرح یہ فقرہ متوفیک وعدہ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ کے پہلے بھی نہیں آسکتا کیونکہ وہ وعدہ بھی پورا ہو چکا ہے اور قیامت کے دن تک اس کا دامن لمبا ہے۔ پس اس صورت میں ۱۷۹) توفی کا لفظ اگر آیت کے سر پر سے اٹھا دیا جائے تو اس کو کسی دوسرے مقام میں قیامت سے پہلے رکھنے کی کوئی جگہ نہیں سو اس سے تو یہ لازم آتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام قیامت کے بعد مریں گے اور پہلے مرنے سے یہ ترتیب مانع ہے۔ اب دیکھنا چاہیے کہ قرآن شریف کی یہ کرامت ہے کہ ہمارے مخالف یہودیوں کی طرح قرآن شریف کی تحریف پر آمادہ تو ہوئے مگر قادر نہیں ہو سکے اور کوئی جگہ نظر نہیں آتی جہاں فقرہ رَافِعُک کو اپنے مقام سے اُٹھا کر اُس جگہ رکھا جائے ۔ ہر ایک جگہ کی خانہ پری ایسے طور سے ہو چکی ہے کہ دست اندازی کی گنجائش نہیں اور دراصل یہی ایک