براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 343
۱۷۴ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم ۳۴۳ روحانی خزائن جلد ۲۱ نہایت خوشبودار دوائیاں مل کر اُسے غار کی ٹھنڈی جگہ میں رکھا گیا تو اُس کی بیہوشی دور ہوئی ۔ اس دعوے کی دلیل میں عموما یوسفس کا واقعہ پیش کیا جاتا ہے جہاں یوسفس نے لکھا ہے کہ میں ایک دفعہ ایک فوجی کام سے واپس آ رہا تھا تو راستہ میں میں نے دیکھا کہ کئی ایک یہودی قیدی صلیب پر لٹکے ہوئے ہیں ان میں سے میں نے پہچانا کہ تین میرے واقف تھے۔ پس ٹیٹس (حاکم وقت ) سے اُن کے اتار لینے کی اجازت حاصل کی اور ان کو فوراً اتار کر اُن کی خبر گیری کی تو ایک بالآخر تندرست ہو گیا پر باقی دو مر گئے ۔“ ☆ اور کتاب ماڈرن دوٹ اینڈ کرسچن بیلین ، کے صفحہ ۵ ۴۵ و ۴۵۷ و ۳۴۷ میں انگریزی میں ایک عبارت ہے جس کو ہم اپنی کتاب " تحفہ گولڑویہ کے صفحہ ۱۳۸ میں لکھ چکے ہیں۔ ترجمہ اس کا ذیل میں لکھا جاتا ہے اور وہ یہ ہے:۔ شلیر میخر اور نیز قدیم محققین کا یہ مذہب تھا کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا بلکہ ایک ظاہراً موت کی سی حالت ہو گئی تھی اور قبر سے نکلنے کے بعد کچھ مدت تک اپنے حواریوں کے ساتھ پھرتا رہا اور پھر دوسری یعنی اصلی موت کے واسطے کسی علیحدگی کے مقام کی طرف روانہ ہو گیا“۔ اور یسعیا نبی کی کتاب باب ۵۳ میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اپنی دعا بھی جو انجیل میں موجود ہے یہی ظاہر کر رہی ہے جیسا کہ اُس میں لکھا ہے ۔ دَعَا بِدُمُوعِ جَارِيَةٍ وعَبَرَاتٍ مُتَحَدِّرَةٍ فَسُمِعَ لِتَقْوَاهُ ۔ یعنی عیسی نے بہت گریہ وزاری سے دعا کی اور اُس کے آنسو اُس کے رخساروں پر پڑتے تھے پس بوجہ اُس کے تقویٰ کے وہ دعا منظور ہوگئی ۔ Modern Doubt & Christian Belief P۔347,455,457