براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 306

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۰۶ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم اسی امت میں سے ہوگا۔ لیکن صحیح مسلم میں صریح لفظوں میں اس کا نام نبی اللہ رکھا ہے۔ پھر کیونکر ہم مان لیں کہ وہ اسی امت میں سے ہوگا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تمام بد قسمتی دھوکہ سے پیدا ہوئی ہے کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے معنے صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو۔ پس ایک امتی کو ایسا نبی قرار دینے سے کوئی محذور لازم نہیں آتا بالخصوص اس حالت میں کہ وہ امتی اپنے اسی نبی متبوع سے فیض پانے والا ہو بلکہ فساد اس حالت میں لازم آتا ہے کہ اس اُمت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک مکالمات الہیہ سے بے نصیب قرار دیا جائے ۔ وہ دین ۔ دین نہیں ہے اور نہ وہ نبی، نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمات الہیہ سے مشرف ہو سکے۔ وہ دین لعنتی اور قابلِ نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ صرف چند منقولی باتوں پر انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ۱۳۹﴾ ہے اور خدائے حتی و قیوم کی آواز سننے اور اُس کے مکالمات سے قطعی نومیدی ہے اور اگر کوئی آواز بھی غیب سے کسی کے کان تک پہنچتی ہے تو وہ ایسی مشتبہ آواز ہے کہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ خدا کی آواز ہے یا شیطان کی ۔ سوالیسا دین بہ نسبت اس کے کہ اُس کو رحمانی کہیں شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہوتا ہے۔ دین وہ ہے جو تاریکی سے نکالتا اور نور میں داخل کرتا ہے اور انسان کی خدا شناسی کو صرف قصوں تک محدود نہیں رکھتا بلکہ ایک معرفت کی روشنی اس کو عطا کرتا ہے۔ سو سچے دین کا متبع اگر خود نفس امارہ کے حجاب میں نہ ہو۔ خدا تعالیٰ کے کلام کو سن سکتا ہے ۔ سو ایک امتی کو اس طرح کا نبی بنانا سچے دین کی ایک لازمی نشانی ہے۔ اور اگر نبی کے یہ معنے ہیں کہ اُس پر شریعت نازل ہو یعنی وہ نئی شریعت لانے والا ہو