براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 286
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۸۶ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم اور اگر ایک ذرہ انصاف ہو تو معلوم ہوگا کہ خود حضرت مسیح علیہ السلام اس عقیدہ کے مخالف تھے کہ کوئی آسمان پر جا کر پھر دنیا میں آتا ہے اسی لئے جب اُن سے الیاس نبی کے دوبارہ آنے کے بارہ میں یہودیوں نے پوچھا اور کتابیں دکھلائیں کہ لکھا ہے کہ الیاس دوبارہ دنیا میں آئے گا تب بعد الیاس آنے کے وہ مسیح موعود آئے گا جس کے آنے کا یہود کو وعدہ دیا گیا تھا اور بتلایا گیا تھا کہ وہ ان کا خاتم الانبیاء ہو گا تو عیسی علیہ السلام نے یہ اعتراض سن کر فرمایا کہ یوحنا نبی جو تم میں موجود ہے اور مجھ سے پہلے آچکا ہے یہی الیاس ہے جس نے قبول کرنا ہو قبول کرے۔ اور یہ قول آپ کا یہود کو بہت ہی برا معلوم ہوا۔ اور اُن کو کافر اور بدعتی اور اجماع امت کے برخلاف ایک بات کہنے والا قرار دیا۔ چنانچہ ایک کتاب جو حال میں ایک بڑے یہودی فاضل نے تالیف کی ہے جو میرے پاس موجود ہے۔ اُس میں وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی تکذیب کے لئے بڑا شور ڈالتا ہے اور اُن کو وہ نعوذ باللہ کذاب اور کافر اور ملحد کہتا ہے اور لوگوں کے سامنے اس بات کا اپیل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تم خود منصف ہو کر سوچو کہ جس حالت میں خدا نے اپنی ۱۲۱ کتاب میں یہ خبر دی تھی جیسا کہ صحیفہ ملا کی میں لکھا ہے ۔ جس کی صحت اور منجانب اللہ ہونے کا بقيه حاشيه اُس اجماع پر شعر بنائے گئے ۔ ابوبکر کی روح پر خدا تعالیٰ ہزاروں رحمتوں کی بارش کرے اُس نے تمام روحوں کو ہلاکت سے بچالیا اور اس اجماع میں تمام صحابہ شریک تھے۔ ایک فرد بھی ان میں سے باہر نہ تھا۔ اور یہ صحابہ کا پہلا اجماع تھا اور نہایت قابل شکر کارروائی تھی۔ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ اور مسیح موعود کی باہم ایک مشابہت ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ قرآن شریف میں دونوں کی نسبت یہ تھا کہ جب ایک خوف کی حالت اسلام پر طاری ہوگی اور سلسلہ مرتد ہونے کا شروع ہو گا تب ان کا ظہور ہوگا سو حضرت ابوبکر اور مسیح موعود کے وقت میں ایسا ہی ہوا۔ یعنی حضرت ابو بکر کے وقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صد ہا جاہل عرب مرتد ہو گئے تھے۔ اور صرف دو مسجد میں باقی تھیں جن میں نماز پڑھی جاتی تھی۔ حضرت ابو بکر نے دوبارہ ان کو اسلام پر قائم کیا ایسا ہی مسیح موعود کے وقت میں کئی لاکھ انسان اسلام سے مرتد ہو کر عیسائی بن گئے اور یہ دونوں حالات قرآن شریف میں مذکور ہیں یعنی پیشگوئی کے طور پر ان کا ذکر ہے۔ منہ