براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 283
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۸۳ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم حضرت عیسیٰ زندہ ہیں اور پھر دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے۔ صاف اور صریح طور پر نصوص صریحہ قرآن شریف کے برخلاف ہے مگر پھر بھی آپ اس عقیدہ کو نہیں چھوڑتے پس اس صورت میں ۱۱۸ آپ پر کیا افسوس کروں کہ آپ میرے صدہا نشانوں کو دیکھ کر اُن سے منکر ہوئے جاتے ہیں اور جس طرح ایک شخص کو مٹی کھانے کی عادت ہو جاتی ہے وہ باوجود پیش کئے جانے محمدہ غذاؤں کے پھر بھی مٹی کھانے کی طرف ہی رغبت کرتا ہے۔ یہی حال آپ کا ہو رہا ہے۔ یہ بھی جھوٹ ہے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ حدیثوں کی رو سے ہم حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ سمجھتے ہیں۔ صحیح بخاری جس کو آپ اصح الکتب بعد کتاب اللہ قرار دیتے ہیں اس میں تو صاف لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات حضرت عیسی علیہ السلام کو ان مردہ روحوں میں دیکھا جو اس جہان سے گذر چکی ہیں بلکہ حضرت یحیی کے پاس جو فوت ہو چکے ہیں اُن کا مقام پایا ۔ اب بندہ خدا کچھ تو خدا تعالیٰ کا خوف کرنا چاہیے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر قبض روح کے یونہی جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے تو اُن کو روحوں سے کیا تعلق تھا جو موت کے بعد دوسرے جہان میں پہنچ چکی ہیں اُن کے لئے تو کوئی علیحدہ مکان یا کمرہ چاہیے تھا جس میں جسمانی زندگی بسر کرتے نہ کہ عالم فانی کے رہنے والوں کے پاس چلے جاتے جو موت کا مزہ چکھ چکے ہیں ۔ پس یہ کس قدر جھوٹ ہے جو آپ کے گلے کا ہار شخص ہو رہا ہے جو : وایسے شخص کو آپ زندہ قرار دیتے ہیں جو اُنیس سو برس سے فوت ہو ؟ چکا ہے۔ جب تک خدا تعالیٰ نے اس بھید کو نہیں کھولا تھا تب تک تو ہر ایک معذور تھا۔ اب جب کہ حکم آگیا اور حقیقت کھل گئی اور قرآن شریف کی رو سے حضرت عیسی کی موت ثابت ہو گئی اور حدیثوں کی رو سے مردہ روحوں میں اُن کی بود و باش پر گواہی مل گئی اور خدا کے قول سے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے یعنی رؤیت سے حضرت عیسیٰ کا وفات پانا بپایہ ثبوت پہنچ گیا بلکہ مسلم اور صحیح بخاری کی حدیث سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ آنے والا مسیح اسی امت میں سے ہوگا اور اس مسیح نے بھی بحیثیت حکم ہونے کے قرآن شریف اور ان احادیث