براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 276

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۷۶ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم کے بعد جب زلزلہ ظہور میں آگیا تو اب معلوم ہوا کہ وہ براہین احمدیہ کی پیشگوئیاں آئندہ آنے والے زلزلہ کی نسبت پیشگوئیاں تھیں ۔ یہ تو میری طرف سے انہوں نے اقرار لکھا ہے اور یہ بالکل صحیح ہے کیونکہ میں نے اپنے اشتهار النداء من وحی السماء میں جو اپریل ۱۹۰۵ء کو شائع ہوا تھا در حقیقت یہ عبارت ۱۲ اشتہار کے صفحہ کے مطبوعہ نول کشور پر لیس لاہور میں لکھی ہے چنانچہ پوری عبارت یہ ہے ۔ یادر ہے کہ ان دونوں زلزلوں کا ذکر میری کتاب براہین احمد یہ میں بھی موجود ہے جو آج سے پچیس برس پہلے اکثر ممالک میں شائع کی گئی تھی ۔ اگر چہ اس وقت اس خارق عادت بات کی طرف ذہن منتقل نہ ہو سکا لیکن اب ان پیشگوئیوں پر نظر ڈالنے سے بدیہی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ آئندہ آنے والے زلزلوں کی نسبت پیشگوئیاں تھیں جو اُس وقت نظر سے مخفی رہ گئیں۔ ۲۵ اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ میں نے اس اشتہار میں صاف طور پر لکھ دیا ہے کہ میرا اس وقت سے پہلے جب کہ زلزله ۴ را پریل ۱۹۰۵ء ظہور میں آ گیا اس بات کی طرف ذہن منتقل نہیں ہوا تھا کہ جیسا کہ ظاہر الفاظ پہاڑ کے پھٹ جانے سے سمجھا جاتا ہے درحقیقت براہین احمدیہ کے ان الہامات سے زلزلہ ہی مراد ہے اور اس پر ایک دلیل بھی ہے کہ براہین احمد یہ میں جو ان دونوں الہامات کا ترجمہ کیا گیا ہے اُس میں بھی ظاہر الفاظ کی رُو سے ترجمہ نہیں ہوا۔ غرض میں نے اس اشتہار ۲۱ اپریل ۱۹۰۵ء میں جو ۴ را پریل ۱۹۰۵ء کے بعد لکھا تھا صاف اقرار کر دیا کہ میں پچیس برس تک براہین احمدیہ کے دونوں موقعہ کے الہام کو جو فلما تجلى ربّه للجبل ہے خاص زلزلہ کے لئے متعین نہ کر سکا۔ مگر ۴ را پریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کے بعد کھل گیا کہ وہ اسی زلزلہ کے متعلق تھا۔ یہ تو وہ امر ہے جو میرے اشتہار ۲۵ ۲۱ ر ا پریل ۱۹۰۵ء سے ثابت ہوتا ہے۔ اب اس اشتہار کے برخلاف جو دعویٰ محض افترا اور جعلسازی سے مولوی محمد حسین صاحب نے