براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 271 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 271

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۷۱ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم ور نہ جو لوگ خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں وہ با وجود نبی اور رسول ہونے کے اقرار رکھتے ہیں کہ جیسا کہ حق تبلیغ کا تھا ادا نہ کر سکے ہیں اور اسی کو وہ گناہ عظیم خیال کرتے ہیں اور اسی خیال سے وہ نعرے مارتے اور روتے اور درد سے بھر جاتے ہیں اور دائم الاستغفار رہتے ہیں مگر خشک مولوی جن کے دامن میں بجز ہڈیوں کے کچھ نہیں وہ اس روحانیت کو کیا جانتے ہیں۔ بے گناہ ہونے کی اطمینان کسی نبی نے بھی ظاہر نہیں کی ۔ جو دنیا میں افضل الرسل اور خاتم الرسل گذرا ہے اس کے منہ سے بھی یہی نکلا ربنا اغفر لنا ذنوبنا و باعد بيننا و بين خطايانا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ فرماتے تھے کہ سورۃ ہود نے مجھے بوڑھا کر دیا۔ اور آپ سب سے زیادہ استغفار پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ میں دن میں ستر مرتبہ استغفار کرتا اللَّهِ النَّاسَ ہوں اور خدا تعالیٰ نے آپ کے حق میں فرما میں فرمایا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاس يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحُ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا - یہ سورة آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب زمانہ وفات میں نازل ہوئی تھی اور اس میں اللہ تعالیٰ زور دے کر اپنی نصرت اور تائید اور تکمیل مقاصد دین کی خبر دیتا ہے کہ اب تو اے نبی خدا کی تسبیح اور تمجید کر اور خدا سے مغفرت چاہ وہ تو اب ہے اس موقعہ پر مغفرت کا ذکر کرنا یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ اب کام تبلیغ ختم ہو گیا خدا سے دُعا کر کہ اگر خدمت تبلیغ کے دقائق میں کوئی فروگذاشت ہوئی ہو تو خدا اُس کو بخش دے۔ موسیٰ بھی توریت میں اپنے قصوروں کو یاد کر کے روتا ہے اور جس کو عیسائیوں نے خدا بنا رکھا ہے کسی نے اس کو کہا ۔ کہ اے نیک اُستاد ۔ تو اُس نے جواب دیا کہ تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے نیک کوئی نہیں مگر خدا۔ یہی تمام اولیاء کا شعار رہا ہے۔ سب نے استغفار کو اپنا شعار قرار دیا ہے بجزر شیطان کے ۔ فرس کشته چندان که شب رانده اند سحر که خروشاں کہ وامانده اند آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ما عبدناک حق عبادتک یعنی اے ہمارے خدا جو حق تیری پرستش کا تھا ہم سے ادا نہیں ہو سکا۔ کیا آپ اس جگہ یہ اعتراض کریں گے کہ جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود عبادت کرنے میں قاصر تھے تو دوسروں کو کیوں نصیحت کرتے تھے۔ افسوس ۔ منہ ل النصر : ۲ تا ۴