براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 266
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۶۶ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم کیونکہ پہلے پہاڑ کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا وعدہ کیا اور پھر فرمایا قوة الرحمن لعبيد الله الصمد ۔ یعنی یہ خدا کی قوت سے ہوگا ۔ اُس کے بندہ کی تائید اور نصرت کے لئے جس شخص نے اب بھی باوجود ان تصریحات کے ایسی واضح پیشگوئی کو سفید جھوٹ سمجھا ہے اس کی نسبت بجز اس کے کیا کہیں کہ خود اُس کی آنکھیں سفید ہوگئی ہیں کہ روز روشن کو وہ رات خیال کرتا ہے۔ علاوہ اس کے جس موقعہ پر قرآن شریف میں یہ آیت ہے وہ موقعہ بھی تو زلزلہ پر ہی دلالت کرتا ہے کیونکہ اب تک توریت سے ثابت ہوتا ہے کہ جب کہ حضرت موسیٰ کو کرشمہ قدرت دکھلانے کے لئے پہاڑ پھٹا تھا اس وقت بھی زلزلہ ہی آیا تھا۔ اس قدر شہادتوں کے بعد بھی اگر کوئی نہیں مانتا تو دو حال سے خالی نہیں ۔ یا تو اس کے حواس میں خلل ہے اور آنکھ کی بینائی میں قصور اور یا سخت تعصب کے پردہ نے اس کو اس توفیق سے محروم کر دیا ہے کہ وہ نور کو دیکھ کر پھر اس کو قبول کر سکے۔ ماسوائے اس کے ہر ایک عقلمند جانتا ہے کہ پہاڑ کا پھٹ جانا بھی مستلزم زلزلہ ہے اور اس واقعہ کو زلزلہ پر قطعی اور ضروری دلالت ہے تو پھر کیونکر مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ زلزلہ کا اس جگہ کچھ بھی ذکر نہیں ۔ کیا پہاڑ زلزلہ کے بغیر بھی پھٹا کرتے ہیں؟ مولوی صاحب کی عقل پر یہ کیسے پتھر پڑ گئے کہ کھلی کھلی بات اُن کو سمجھ نہیں آتی ۔ ستر برس تک پہنچ کر پھر طفولیت کی سادہ لوحی ظاہر ہونے لگی۔ پھر ساتھ اس کے جب کہ یہ بھی موجود ہے کہ اس واقعہ کو ہم نشان بنائیں گے اور اس مامور کی اس سے تائید اور نصرت کریں گے تو ۱۰۴ بجز ایسے شخص کے کہ اس کے دل پر شقاوت کا زنگ جم گیا ہو ۔ کون اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ یہ پہاڑ کا پھٹنا جس کا براہین احمدیہ میں ذکر ہے کوئی ایسا واقعہ ہے جس کو خدا اپنے مامور کے لئے نشان بنائے گا ۔ جیسا کہ اُسی جگہ بطور وعدہ اُس نے فرمایا ہے ولنجعله آيَةً للناس ۔ یعنی ہم اس کو لوگوں کے لئے نشان بنا ئیں گے۔ قوله - گورنمنٹ اور پبلک براہین احمدیہ کے صفحات مذکورہ کو ملاحظہ کریں کیا یہ عبارت کہیں پائی جاتی ہے۔ اس دھوکا بازی اور جعلسازی کی کوئی انتہا نہیں۔