براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 251

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۵۱ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم ایک حصہ ملک کا نابود ہو جائے گا۔ اور یہ بھی موجود ہے کہ وہ میری زندگی میں آئے گا۔ اور اس کے ساتھ یہ بھی پیشگوئی ہے کہ وہ ان کے لئے نمونہ قیامت ہوگا جن پر یہ زلزلہ آئے گا۔ اور اگر یہ گول مول ہے تو پھر کھلی کھلی پیشگوئی کس کو کہتے ہیں؟ اور یہ کہنا کہ اُس میں وقت نہیں بتایا گیا یہ صرف آپ اسلام پر نہیں بلکہ تمام آسمانی کتابوں پر حملہ کرتے ہیں۔ قرآن شریف میں اکثر ایسی ہی پیشگوئیاں ہیں جن میں کوئی وقت نہیں بتایا گیا۔ توریت میں بخت نصر اور طیطوس رومی کی نسبت جو پیشگوئی تھی اس میں کونسا وقت بتایا گیا تھا۔ ایسا ہی تو ریت میں جو مثیل موسیٰ کے آنے کی نسبت پیشگوئی تھی اُس میں کسی وقت کی قید لگائی گئی تھی ۔ اور انجیل کی پیشگوئیاں جو زلزلوں اور لڑائیوں کے بارے میں ہیں کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اُن میں کسی وقت کا پتہ دیا گیا ہے۔ اور پھر وہ پیشگوئی جو مسیح موعود کے آنے کے بارہ میں ہے جس میں آپ لوگ حضرت عیسی بن مریم کو دوبارہ زمین پر لانا چاہتے ہیں اس میں کس وقت کی خدا تعالیٰ نے آپ لوگوں کو خبر دے رکھی ہے تا دور سے آنے والے کے لئے چند قدم استقبال کی نیت سے آپ آگے قدم اٹھاویں اور اگر زیادہ نہیں تو کرہ زمہریر تک ہی پیشوائی کریں اور لحاف 91 وغیرہ ساتھ لے لیں ۔ کاش آپ لوگوں نے سوچا ہوتا کہ ایسے اعتراض صرف میرے پر نہیں یہ تو سب اعتراض آپ کے اسلام پر اور نعوذ باللہ قرآن شریف پر پڑتے ہیں بلکہ یہ تو تمام ابنیاء گذشتہ پر حملہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب ایک پیشگوئی فی نفسہ خارق عادت ہو یا کسی ایسے غیب پر مشتمل ہو جس کا علم انسانی طاقت سے بالا تر ہے۔ اور پیشگوئی میں صاف طور پر یہ دعوئی ہو کہ ایسا واقعہ اس ملک میں صد ہا سال تک کبھی ظہور میں نہیں آیا۔ اور دراصل ظہور میں نہ آیا ہوا اور پھر وہ واقعہ اپنے دعو دعوے کے موافق ظہور میں آجائے تو پھر ایسی خارق عادت پیشگوئی پر اعتراض کرنا بے ایمانوں کا کام ہے جن کو خدا کی اور سچائی کی پروانہیں اور ایسے بدقسمت ہمیشہ شقاوت قلبی کی وجہ سے ہر ایک نبی پر اعتراض کرتے رہے ہیں ۔ بھلا آپ ہی بتلاویں کہ اس زلزلہ کی نسبت جس مدوشد سے پیشگوئی میں