براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 230

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۳۰ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم سچائی ہے کہ اب خدا تعالیٰ کی کلام کی رہبری اور یاد دہانی کے بعد عقل بھی اپنے معقولی علوم میں بہت فخر کے ساتھ اس کو داخل کرنے کے لئے طیار ہے۔ کیونکہ عند العقل یہ بات ظاہر ہے کہ سب سے پہلے جو ایک سعید الفطرت آدمی کے نفس کو خدا تعالیٰ کی طرف اس کی طلب میں ایک حرکت پیدا ہوتی ہے۔ وہ خشوع اور انکسار ہے اور خشوع سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے لئے فروتنی اور تواضع اور تضرع کی حالت اختیار کی جائے اور جو اس کے مقابل پر اخلاق رڈیہ ہیں جیسے تکبر اور عجب اور ریا اور لا پروائی اور بے نیازی ان سب کو خدا تعالیٰ کے خوف سے چھوڑ دیا جائے اور یہ بات بدیہی ہے کہ جب تک انسان اپنے اخلاق رقیہ کو نہیں چھوڑتا اس وقت تک ان اخلاق کے مقابل پر جو اخلاق فاضلہ ہیں جو خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں اُن کو قبول نہیں کر سکتا کیونکہ دوضد میں ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتیں ۔ اسی کی طرف اللہ تعالی قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے جیسا کہ سورہ بقر کی ابتدا میں اس نے فرمایا ہے۔ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ، یعنی قرآن شریف ان لوگوں کے لئے ہدایت ہے جو متقی ہیں یعنی وہ لوگ جو تکبر نہیں کرتے اور خشوع اور انکسار سے خدا تعالیٰ کے کلام میں غور کرتے ہیں وہی ہیں جو آخر کو ہدایت پاتے ہیں۔ اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ ان آیات میں چھ جگہ افلح کا لفظ ہے۔ پہلی آیت میں صریح طور پر جیسا کہ فرمایا ہے قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَشِعُونَ ے اور بعد کی آیتوں میں عطف کے ذریعہ سے معلوم ہوتا ہے۔ اور افلح کے لغت میں یہ معنے ہیں اُصِیرَ إِلَى الفَلاح یعنی فوز مرام کی طرف پھیرا گیا اور حرکت دیا گیا۔ پس ان معنوں کی رُو سے مومن کا نماز میں خشوع اختیار کرنا فوز مرام کے لئے پہلی حرکت ہے جس کے ساتھ تکبر اور تُجب وغیرہ چھوڑنا پڑتا ہے۔ اور اس میں فوز مرام یہ ہے کہ انسان کا نفس خشوع کی سیرت اختیار کر کے خدائے تعالیٰ سے تعلق پکڑنے کے لئے مستعد اور طیار ہو جاتا ہے۔ دوسرا کام مومن کا یعنی وہ کام جس سے دوسرے مرتبہ تک قوت ایمانی پہنچتی ہے اور البقرة : 3 المؤمنون : ٣٠٢