براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 225
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۲۵ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم اور شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے بھی اس بارہ میں ایک شعر کہا ہے جو حسن روحانی پر بہت منطبق ہوتا ہے اور وہ یہ ہے صورت گر دیبائے چین روصورت زیباش بین یا صور تے برکش چنیں یا تو بہ کن صورت گری اب یہ بھی یادر ہے کہ بندہ تو حسن معاملہ دکھلا کر اپنے صدق سے بھری ہوئی محبت ظاہر کرتا ہے مگر خدا تعالیٰ اس کے مقابلہ پر حد ہی کر دیتا ہے اس کی تیز رفتار کے مقابل پر برق کی طرح اس کی طرف دوڑتا چلا آتا ہے اور زمین و آسمان سے اس کے لئے نشان ظاہر کرتا ہے اور اس کے دوستوں کا دوست اور اس کے دشمنوں کا دشمن بن جاتا ہے اور اگر پچاس کروڑ انسان بھی اُس کی مخالفت پر کھڑا ہو تو ان کو ایسا ذلیل اور بے دست و پا کر دیتا ہے جیسا کہ ایک مرا ہوا کیڑا۔ اور محض ایک شخص کی خاطر کے لئے ایک دنیا کو ہلاک کر دیتا ہے اور اپنی زمین و آسمان کو اس کے خادم بنادیتا ہے اور اس کے کلام میں برکت ڈال دیتا ہے اور اس کے تمام درو دیوار پر نور کی بارش کرتا ہے اور اُس کی پوشاک میں اور اُس کی خوراک میں اور اس مٹی میں بھی جس پر اس کا قدم پڑتا ہے ایک برکت رکھ دیتا ہے اور اس کو نامراد ہلاک نہیں کرتا۔ اور ہر ایک اعتراض جو اس پر ہو اُس کا آپ جواب دیتا ہے۔ وہ اُس کی آنکھیں ہو جاتا ہے جن سے وہ دیکھتا ہے اور اُس کے کان ہو جاتا ہے جن سے وہ سنتا ہے اور اُس کی زبان ہو جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے اور اُس کے پانوں ہو جاتا ہے جن سے وہ چلتا ہے اور اُس کے ہاتھ ہو جاتا ہے جن سے وہ دشمنوں پر حملہ کرتا ہے۔ وہ اُس کے دشمنوں کے مقابل پر آپ نکلتا ہے اور شریروں پر جو اُس کو دُکھ دیتے ہیں آپ تلوار کھینچتا ہے۔ ہر میدان میں اس کو فتح دیتا ہے اور اپنی ۶۶ قضاء و قدر کے پوشیدہ راز اس کو بتلاتا ہے۔ غرض پہلا خریدار اس کے روحانی حسن و جمال کا جو حسن معاملہ اور محبت ذاتیہ کے بعد پیدا ہوتا ہے خدا ہی ہے۔ پس کیا ہی بد قسمت وہ لوگ ہیں جو ایسا زمانہ پاویں اور ایسا سورج اُن پر طلوع کرے اور وہ تاریکی میں بیٹھے رہیں۔ بعض نادان یہ اعتراض بار بار پیش کرتے ہیں کہ محبوبان الہی کی یہ علامت ہے کہ ہر ایک