براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 207
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۰۷ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اور اس درجہ روحانی کے مقابل پر جو وجود روحانی کا چوتھا درجہ ہے جسمانی وجود کا درجہ چہارم ہے جس کے بارے میں قرآن شریف میں یہ آیت ہے فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَمًا یعنی پھر ہم نے مُضغہ سے ہڈیاں بنائیں۔ اور ظاہر ہے کہ ہڈیوں میں بہ نسبت مضغہ یعنی بوٹی کے زیادہ صلابت اور سختی پیدا ہو جاتی ہے اور نیز ہڈی بہ نسبت مضغہ کے بہت دیر پا ہے اور ہزاروں برس تک اس کا نشان رہ سکتا ہے پس وجو د روحانی کے درجہ چہارم اور وجود جسمانی کے درجہ چہارم میں مشابہت ظاہر ہے کیونکہ وجو د روحانی کے درجہ چہارم میں بہ نسبت وجود روحانی کے درجہ سوم کے ایمانی شدت اور صلابت زیادہ ہے اور خدائے رحیم سے تعلق بھی زیادہ۔ ایسا ہی وجود جسمانی کے درجہ چہارم میں جو استخوان کا پیدا ہونا ہے یہ نسبت درجه سوم وجود جسمانی ۵۰ کے جو محض مضغہ یعنی بوٹی ہے جسمانی طور پر شدت اور صلابت زیادہ ہے اور رحم سے تعلق بھی زیادہ۔ پھر چہارم درجہ کے بعد پانچواں درجہ وجود روحانی کا وہ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا ہے وَالَّذِينَ هُمْ لِاَ مُنْتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رُعُونَ ۔ یعنی پانچویں درجہ کے مومن جو چوتھے درجہ سے بڑھ گئے ہیں وہ ہیں جو صرف اپنے نفس میں یہی کمال نہیں رکھتے جو نفس امارہ کی شہوات پر غالب آگئے ہیں اور اس کے جذبات پر ان کو فتح عظیم حاصل ہو گئی ہے بلکہ وہ حتی الوسع خدا اور اس کی مخلوق کی تمام امانتوں اور تمام عہدوں کے ہر ایک پہلو کا لحاظ رکھ کر تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور جہاں تک طاقت ہے اس راہ پر چلتے ہیں۔ خدا کے عہدوں سے مراد وہ ایمانی عہد ہیں جو بیعت اور ایمان لانے کے وقت مومن سے لئے جاتے ہیں جیسے شرک نہ کرنا خونِ ناحق نہ کرنا وغیرہ۔ لفظ رَاعُونَ جو اس آیت میں آیا ہے جس کے معنے ہیں رعایت رکھنے والے۔ یہ لفظ عرب کے محاورہ کے موافق اُس جگہ بولا جاتا ہے جہاں کوئی شخص اپنی قوت اور طاقت کے مطابق ا المؤمنون : ۱۵ المؤمنون : 9