براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 204
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۰۴ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم ۴۷ خدا سے جو اپنی ذات میں پاک ہے ایک مناسبت پیدا کر لیتا ہے۔ کوئی اُس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو تب اُس کو پاوے اور یہ مرتبہ پہلی دو حالتوں میں پایا نہیں جاتا ۔ کیونکہ صرف خشوع اور عجز و نیاز یا صرف لغو باتوں کو ترک کرنا ایسے انسان سے بھی ہو سکتا ہے جس میں ہنوز بخل کی پلیدی موجود ہے لیکن جب انسان خدا تعالیٰ کے لئے اپنے اس مال عزیز کو ترک کرتا ہے جس پر اس کی زندگی کا مدار اور معیشت کا انحصار ہے اور جو محنت اور تکلیف اور عرقریزی سے کمایا گیا ہے تب بخل کی پلیدی اس کے اندر سے نکل جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ایمان میں بھی ایک شدت اور صلابت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ دونوں حالتیں مذکورہ بالا جو پہلے اس سے ہوتی ہیں اُن میں یہ پاکیزگی حاصل نہیں ہوتی بلکہ ایک چھپی ہوئی پلیدی ان کے اندر رہتی ہے۔ اس میں حکمت یہی ہے کہ لغویات سے منہ پھیرنے میں صرف ترک شر ہے اور شر بھی ایسی جس کی زندگی اور بقا کے لئے کچھ ضرورت نہیں اور نفس پر اس کے ترک کرنے میں کوئی مشکل نہیں لیکن اپنا محنت سے کمایا ہوا مال محض خدا کی خوشنودی کے لئے دینا یہ کسبِ خیر ہے جس سے وہ نفس کی ناپا کی جو سب ناپاکیوں سے بدتر ہے یعنی بجل ہے یعنی بخل دور ہوتا ہے لہذا یہ ایمانی حالت کا تیسرا درجہ ہے جو پہلے دو درجوں سے اشرف اور ، اور افضل ہے اور اس کے مقابل پر پر جسمانی جسمانی وجود وجود کے کے تیار تیار ہونے میں میں مضغہ مضغہ کا کا درجہ ہے جو پہلے دو درجوں نطفہ اور علقہ سے فضیلت میں بڑھ کر ہے اور پاکی میں خصوصیت رکھتا ہے کیونکہ نطفہ اور علقہ دونوں نجاست خفیفہ سے ملوث ہیں مگر مضغہ پاک حالت میں ہے اور جس طرح رحم میں مضغہ کو بہ نسبت نطفہ اور علقہ کے ایک ترقی یافتہ حالت اور پاکیزگی پیدا ہو جاتی ہے اور بہ نسبت نطفہ اور علقہ کے رحم سے اس کا تعلق بھی زیادہ ہو جاتا ہے اور شدت اور صلابت بھی زیادہ ہو جاتی ہے یہی حالت وجود روحانی کی مرتبہ سوم کی ہے جس کی تعریف خدا تعالیٰ نے یہ فرمائی ہے وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكُوةِ فَعِلُونَ یعنی مومن وہ ہیں جو اپنے نفس کو بخل سے پاک ا المؤمنون : ۵