براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 194

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۹۴ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم موجود مستلزم نہیں کہ اس شخص کو خدا سے تعلق بھی ہے۔ ممکن ہے کہ یہ سب حالات کسی شخص میں مو ہوں مگر ابھی اس کو خدا تعالیٰ سے تعلق نہ ہو ۔ جیسا کہ مشاہا سا کہ مشاہدہ صریحہ اس بات پر گواہ ہے کہ بہت سے لوگ پند و نصیحت کی مجلسوں اور وعظ و تذکیر کی محفلوں یا نماز اور یاد الہی کی حالت میں خوب روتے اور وجد کرتے اور نعرے مارتے اور سوز و گداز ظاہر کرتے ہیں اور آنسو ان کے رخساروں پر پانی کی طرح رواں ہو جاتے ہیں بلکہ بعض کا رونا تو منہ پر رکھا ہوا ہوتا ہے۔ ایک بات سنی اور و ہیں رو دیا۔ مگر تا ہم لغویات سے وہ کنارہ کش نہیں ہوتے اور بہت سے لغو کام اور لغو باتیں اور لغو سیر و تماشے اُن کے گلے کا ہار ہو جاتے ہیں۔ جن سے سمجھا جاتا ہے کہ کچھ بھی اُن کو خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں اور نہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور ہیبت کچھ اُن کے دلوں میں ہے۔ پس یہ عجیب تماشا ہے کہ ایسے گندے نفسوں کے ساتھ بھی خشوع اور سوز و گداز کی حالت جمع ہو جاتی ہے۔ اور یہ عبرت کا مقام ہے اور اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مجرد خشوع اور گریہ وزاری کہ جو بغیر ترک لغویات ہو کچھ فخر کرنے کی جگہ نہیں اور نہ یہ قرب الہی اور تعلق باللہ کی کوئی علامت ہے۔ بہت سے ایسے فقیر میں نے بچشم خود دیکھے ہیں اور ایسا ہی بعض دوسرے لو ایسا ہی بعض دوسرے لوگ بھی دیکھنے میں آئے ہیں کہ کسی دردناک شعر کے پڑھنے یا دردناک نظارہ دیکھنے یا دردناک قصہ کے سننے سے اس جلدی سے ان کے آنسو گرنے شروع ہو جاتے ہیں جیسا کہ بعض با دل اس قدر جلدی سے اپنے موٹے موٹے قطرے برساتے ہیں کہ باہر سونے والوں کو رات کے وقت فرصت نہیں دیتے کہ اپنا بستر بغیر تر ہونے کے اندر لے جاسکیں لیکن میں اپنی ذاتی شہادت سے گواہی دیتا ہوں کہ اکثر ایسے شخص میں نے بڑے مکار بلکہ دنیا داروں سے آگے بڑھے ہوئے پائے ہیں اور بعض کو میں نے ایسے خبیث طبع اور بد دیانت اور ہر پہلو سے بدمعاش پایا ہے کہ مجھے اُن کی گریہ وزاری کی عادت اور خشوع و خضوع کی خصلت دیکھ کر اس بات سے کراہت آتی ہے کہ کسی مجلس میں ایسی رقت اور سوز و گداز ظاہر کروں ۔ ہاں کسی زمانہ میں خصوصیت کے ساتھ یہ نیک بندوں کی علامت تھی مگر اب تو اکثر یہ پیرا یہ مکاروں اور فریب دہ لوگوں کا ہو گیا ہے