براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 181

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۸۱ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم تو خدا تعالیٰ کی تمام کتابیں اس سے باطل ٹھہریں گی ۔ اور تمام نظام دین کا اس سے درہم برہم ہو جائے گا۔ معترض نے اسلام پر یہ سخت حملہ کیا ہے اور نہ صرف اسلام پر بلکہ تمام نبیوں پر یہ حملہ ہے اور اگر عمدا یہ حملہ نہیں کیا تو اسلام اور شریعت سے سخت نا واقفیت اُس کی ثابت ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں سے ایمانداروں کو متنبہ رہنا چاہیے کہ میرے پر حملہ کرنے سے ان کا ارادہ صرف میرے پر حملہ نہیں ہے بلکہ دین اسلام کی اُن کو کچھ پروا نہیں اور اسلام کے وہ چھپے دشمن ہیں۔ خدا تعالیٰ اپنے دین کو ان کے شر سے محفوظ رکھے۔ اس نا سمجھ کو یہ بھی تو خبر نہیں کہ جیسے خدا تعالیٰ نے اپنے اخلاق میں یہ داخل رکھا ہے کہ وہ وعید کی پیشگوئی کو تو بہ واستغفار اور دعا اور صدقہ سے ٹال دیتا ہے اسی طرح انسان کو بھی اُس نے یہی اخلاق سکھائے ہیں جیسا کہ قرآن شریف اور حدیث سے یہ ثابت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت جو منافقین نے محض خباثت سے خلاف واقعہ تہمت لگائی تھی اس تذکرہ میں بعض سادہ لوح صحابہ بھی شریک ہو گئے تھے۔ ایک صحابی ایسے تھے کہ وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر سے دو وقتہ روٹی کھاتے تھے۔ حضرت ابوبکر نے ان کی اس خطا پر قسم کھائی تھی اور وعید کے طور پر عہد کر لیا تھا کہ میں اس بے جا حرکت کی سزا میں اس کو کبھی روٹی نہ دوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ تب حضرت ابوبکر نے ا۔ تب حضرت ابو بکر نے اپنے اس عہد کو توڑ دیا اور بدستور روٹی لگا دی۔ اسی بنا ۵۰ پر اسلامی اخلاق میں یہ داخل ہے کہ اگر وعید کے طور پر کوئی عہد کیا جائے تو اُس کا توڑ نا حسن ﴿۲۷﴾ اخلاق میں داخل ہے۔ مثلاً اگر کوئی اپنے خدمتگار کی نسبت قسم کھائے کہ میں اس کو ضرور پچاس جوتے ماروں گا تو اس کی تو بہ اور تضرع پر معاف کرنا سنت اسلام ہے تا تخلق با خلاق الله ہو جائے مگر وعدہ کا تخلف جائز نہیں ترک وعدہ پر باز پرس ہو گی مگر ترک وعید پر نہیں ۔ قوله: اور پیشگوئیوں کا حال اس سے بھی زیادہ ابتر ہے۔ ل النور : ٢٣