براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 173
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۷۳ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم نہیں کر سکتے وہ قیامت آپ پر آگئی یا نہیں؟ ہر یک سمجھ سکتا ہے کہ اُس قیامت نے ضرور آپ کو 19 پکڑ لیا کیونکہ جس زلزلہ کی پیشگوئی سے آپ منکر ہیں اس کا صریح طور پر ذکر ۲۴ دسمبر ۱۹۰۳ء کے اخبار الحکم کے صفحہ ۱۵ کالم نمبر ۲ میں موجود ہے ۔ ذرا آنکھیں کھولو اور پڑھ لو اور کسی چپنی میں پانی ڈال کر ڈوب مرو۔ پس یہی زلزلہ مذکورہ بالا ہے جس کی صفات ظاہر کرنے کے لئے وحی الہی عفت الديار پہلی وحی کے بعد نازل ہوئی۔ تو کیا اب تک آپ پر قیامت نہ آئی ؟ اگر کہو کہ قیامت کو تو لوگ مرجائیں گے اور میں اب تک زندہ موجود ہوں تو اس کا ا جواب یہ ہے کہ در حقیقت آپ ذلت کی موت سے مر چکے ہیں اور یہ جسمانی زندگی روحانی موت کے بعد کچھ چیز نہیں۔ کیا وہ شخص بھی زندہ کہلا سکتا ہے جس نے بڑے زور وشور سے یہ دعوی کیا تھا کہ پیشگوئی میں ہرگز زلزلہ کا ذکر نہیں اور بڑے گھمنڈ سے اس بات پر اصرار کیا تھا کہ قیامت تک تم ایسی پیشگوئی پیش نہیں کر سکتے جس میں زلزلہ کا ذکر ہو اور پھر اس کو دکھلایا گیا کہ وہ پیشگوئی موجود ہے جس میں صریح الفاظ میں زلزلہ کا ذکر ہے جو عفت الدیار کے الہام سے بھی پانچ ماہ پہلے الحکم میں شائع ہو چکی ہے اور الہام عفت الديار محلها و مقامها اُسی زلزلہ مذکورہ کی عظمت بیان کرتا ہے کہ وہ ایسا ہو گا اس لئے اس میں دوبارہ زلزلہ کا لفظ لانے کی ضرورت نہ تھی۔ اب بتلاؤ کہ ایسی زندگی بھی کیا خاک زندگی ہے کہ ایک بات کا قیامت تک نہ ہونے کا دعوی کیا اور وہ بغل میں سے ہی نکل آئی۔ بمردی که تا زیستن مرد را جہنم کزو داد فرقان خبر از زندگانی بترک حیا به بسوزد درو کاذب بد گہر جو شخص اندھا اور مردہ نہ ہو سمجھ سکتا ہے کہ جس قدر اس پیشگوئی کے لئے صفائی اور قوت بیان چاہیے وہ سب اول درجہ پر اس پیشگوئی میں موجود ہے بلکہ اس سے بڑھ کر اور اس سے انکار ایک ایسی ہٹ دھرمی ہے جس سے صریح سمجھا جاتا ہے کہ ایسے شخص کو خدا پر ایمان